فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اس بارے میں غور کر رہا ہے کہ آیا فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی شرائط میں نرمی کی جائے یا نہیں۔ اس کی جانب سے اس کارروائی کا بظاہر مقصد اپنے اس فوجی کو رہا کرانا ہے جسے ڈیڑھ سال قبل غزہ میں عسکریت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا۔ یروشلم سے نامہ نگار بیتھنی بیل کےمطابق اسرائیل کی دیرینہ پالیسی یہ رہی ہے کہ ان قیدیوں کو جلدی رہا نہیں کیا جائے گا جو اس کی سرزمین پرحملوں میں ملوث رہے ہوں۔ یعنی ایسے قیدی جن کے ہاتھ، بقول اسرائیل، خون میں رنگے ہیں۔ لیکن پیر کو یروشلم میں سینئیر اسرائیلی وزراء کا اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں اس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے گی۔ اگر اس تجویز پر اتفاق ہوجاتا ہے تو گیلاد شلات نامی اسرائیلی فوجی کی رہائی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ بدلےمیں حماس سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان براہ راست کوئی رابطے نہیں ہیں لیکن اس معاملے میں مصر تالث کا کردار ارا کر رہا ہے۔ اسی دوران، فلسطین اور اسرائیل کےدرمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور بھی پیر کو ہو رہا ہے۔ اس دور کی بات چیت کو زیادہ پبلیسٹی نہیں ملی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مشرقی یروشلم کی دو نو آبادیوں میں اسرائیل نے نئے مکان بنانے کا اپنا منصوبہ ترک کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ ادھر غزہ سے اطلاعات ہیں کہ اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں حماس کے دو کارکن ہلاک ہوگئے ہیں۔ حماس کے مطابق یہ لوگ وسطی غزہ میں بریج پناہ گزین کیمپ کے باہر حفاظتی ڈیوٹی پر تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں ایک شخص زخمی بھی ہوا۔ اسرائیل نے حال ہی میں حماس کے خلاف اپنی کارروائی تیز کرتے ہویے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم کے بیس کارکنوں کو ہلاک کیا ہے۔ غزہ میں جون سے حماس کی حکمرانی ہے جب اس نے فتح کے ساتھ ایک خونریز ٹکراؤ کے بعد علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔ |
اسی بارے میں حماس کے خلاف احتجاج، جلوس01 September, 2007 | آس پاس غزہ کو تیل کی بندش پر تشویش30 October, 2007 | آس پاس فرانس: فلسطین امدادی کانفرنس17 December, 2007 | آس پاس اسرائیلی حملےمیں دس ہلاک 18 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||