فرانس: فلسطین امدادی کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی معیشت کی بحالی کے لیے فرانسیسی حکومت پیرس میں ایک بین الاقوامی امدادی کانفرنس کر رہی ہے۔ کانفرنس کا مقصد فلسطینی اتھارٹی کے لیے مالی و سیاسی حمایت حاصل کرنا ہے تاکہ ایک پائیدار ریاست کی بنیادیں رکھنے میں اس کی مدد ہو سکے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈلیزا رائس نے پیرس پہنچ کر فلسطینی وزیراعظم سلام فیاض سے ملاقات کی ہے۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کی ترقی کے لیے ساڑھے پانچ سو ملین ڈالر امداد دے گا۔ خدشہ ہے کہ غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں بگڑتا ہوا معاشی بحران امن کے قیام کی تمام امیدوں پر پانی پھیر سکتا ہے۔ پیرس کی ایک روزہ کانفرنس گزشتہ ماہ اناپلیز (میری لینڈ) میں امریکہ کی طرف سے کرائی جانے والی مشرقِ وسطیٰ کانفرنس کی کڑی ہے۔ اناپلیز میں اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی صدر محمود عباس نے سال دو ہزار آٹھ کے اختتام سے پہلے امن معاہدہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ انسانی بحران فلسطینیوں کی معاشی بہتری کو کامیاب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
لیکن غرب اردن اور خاص طور پر غزہ کی پٹی میں معاشی صورتحال دگرگوں ہے اور امدادی ادارے متنبہ کر رہے ہیں کہ حالات تباہی کی طرف جا سکتے ہیں۔ خیال کیا جا رہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس پانچ اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی امداد کی درخواست کرینگے، جس کی فراہمی میں عرب ریاستوں کا اہم کردار ہوگا۔ اس امداد کا ستر فیصد حصہ بجٹ بنانے اور ترقیاتی کاموں کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔ |
اسی بارے میں مشرقِ وسطیٰ: نئے ایلچی کا تقرر29 November, 2007 | آس پاس غزہ کو تیل کی بندش پر تشویش30 October, 2007 | آس پاس ’امن کیلیےموقع کے استعمال کا وقت‘02 August, 2007 | آس پاس فلسطینی: مہینوں بعد پوری تنخواہ05 July, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||