آیئے امن اور دوستی کی بات کریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نومبر سال دو ہزار میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان شروع کی گئی فون سروس ’ہیلو پیس‘ سے اب تک دس لاکھ کے قریب ٹیلیفونک رابطے ہو چکے ہیں۔ ہم یروشلم کے ایک اپارٹمنٹ میں قائم گرافک ڈیزائنر رامی الہنان کے دفتر میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اس دن کو یاد کرتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے گہری سوچ میں ڈوب گیا جس نے اس کی زندگی یکسر بدل کر رکھ دی تھی۔ چار ستمبر انیس سو ستانوے کو سہ پہر تین بجے کے فوراً بعد ایک خود کش حملہ آور نے مرکزی یروشلم کی مصروف بین یہودا سٹریٹ میں ایک بم دھماکہ کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں رامی کی چودہ سال بیٹی سمادر بھی تھی، جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ نئے تعلیمی سال کے لیے نصابی کتب خریدنے بازار گئی ہوئی تھیں۔ ’آپ سوچ نہیں سکتے کہ آپ بھی نشانہ بن سکتے ہیں‘ رامی نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے سر کو جھٹکا دیا۔ ایسی صورتحال سے دوچار کئی والدین نفرت اور انتقام کے راویتی جذبات میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جو دہائیوں سے اسرائیل اور فلسطین کے تعلقات کا خاصہ ہے۔ لیکن رامی ایک مختلف شخص ہے۔ ذاتی المیے کے ایک سال بعد انہوں نے ’پیرنٹس سرکل‘ نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی، جو پانچ سو ارکان پر مشتمل ایک ایسی تنظیم جس نے دونوں اطراف کے کئی دکھی خاندانوں کو اکٹھا کیا ہوا ہے تا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مکالمہ ہو اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے۔ ’ہم فرشتے نہیں‘ علی ابو آواد ہیبرن کے قریب مغربی کنارے کے علاقے بیت عمار میں رہتے ہیں اور پیرنٹس سرکل کے رکن ہیں۔ ان کے بھائی یوسف کو ایک اسرائیلی فوجی نے مار دیا تھا۔ ابو آواد کہتے ہیں ’میرا ایک ہی سوال تھا۔ کیوں؟ کیا میرے بھائی کو مارنے سے اسرائیل محفوظ ہوجائے گا؟ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟
اس وقت آپ کا دل چاہتا ہے کہ انتقام لیں، لیکن انتقام کس سے؟ میں کتنے لوگوں کو ماروں گا؟ میرے لیے یوسف کی قدر تمام اسرائیلی لوگوں سے زیادہ ہے، میں اگر ان سب کو مار بھی دوں تو مجھے سکون نہیں آئے گا، میرا مطلب ہے کہ وہ اب واپس نہیں آ سکتا۔‘ ایک دن ابو آواد سے اسحاق فرینکنٹل نے رابطہ کیا، جو پیرنٹس سرکل کے رکن ہیں اور ان کا ایک بیٹا حماس نے اغواء کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ابو آواد کے اہل خانہ سے پیرنٹس سرکل میں شمولیت اختیار کر لی۔ ’یہ مشکل ہے، ہم فرشتے نہیں ہیں۔ میں ایک عام انسان ہوں اور مجھے روزانہ کئی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔‘ ابو آواد نے کہا۔ ان کا کہنا تھا ’لیکن فرق یہ ہے کہ پیرنٹس سرکل میں شمولیت پہلے مجھے صرف اپنے بھائی کا دکھ تھا، میرا ذاتی غم، میری فلسطینی قومیت ۔۔۔ لیکن اب میں دونوں قوموں کو اپنے اوپر اٹھائے پھرتا ہوں، یہ وہ جذبہ ہے جو میں چاہتا ہوں کہ سیاستدان بھی محسوس کریں، ذمہ داری محسوس کریں دونوں طرف سے۔‘ رکاوٹیں تل ابیب میں پیرنٹس سرکل کے دفتر میں اس کے ایک اور رکن نے مجھے صورتحال کے کچھ کڑوے سچ یاد کرائے۔ ربی ڈیملن نے کہا ’اکثر اسرائیلی کبھی کسی فلسطینی سے نہیں ملے اور یہی صورتحال فلسطینیوں کی ہے ۔۔۔ فوجیوں اور آبادکاروں کے علاوہ۔‘ رابطے میں اس رکاوٹ کی، جسے اب مغربی کنارے پر رکاوٹیں کھڑی کر کے عملی شکل دی جا رہی ہے، وجہ سے پیرنٹس سرکل نے ہیلو پیس (ہیلو امن) کا آغاز کیا، جو ایک فون لائن ہے جسے کوئی بھی فلسطینی یا اسرائیلی اٹھا کر دوسری جانب کسی سے بات کر سکتا ہے۔ یورپین یونین کی مالی معاونت سے پانچ سال سے کام کرنے والی اس ٹیلی فون لائن کا آغاز ایک رانگ نمبر سے ہوا تھا۔ سال دو ہزار میں انتفادہ دوئم کے ابتدائی دنوں میں ایک نوجوان اسرائیلی خاتون نتالیہ ویزلٹیئر نے تل ابیب میں اپنے ایک جاننے والے سے بات کرنے کے لیے نمبر ڈائل کیا جو غلطی سے غزہ کی پٹی میں ایک فلسطینی سے جا ملا۔ فون رکھنے کی بجائے انہوں نے بات چیت شروع کر دی۔
نتالیہ بتاتی ہیں ’اس نے اپنا نام جہاد بتایا اور کہا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ کھانے پینے کی اشیاء چیک پوائنٹس پر گل سڑ رہی ہیں اور اس کی حاملہ بیوی کسی بھی وقت بچے کو جنم دے سکتی ہے، لیکن ہسپتال پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔‘ نیٹ ورک جہاد یہ جان کر بہت حیران ہوا کہ ایک اسرائیلی سے مخاطب ہے اور اس کے مسائل کو سمجھ رہی ہے۔ جلد ہی نتالیہ کو جہاد، اس کے خاندان اور دوستوں سے ٹیلی فون کالز موصول ہونے لگیں۔ جواباً اس نے بھی اپنے دوستوں کے ان سے رابطے کرائے اور جلد ہی رابطوں کا ایک نیٹ ورک وجود میں آ گیا۔ بعد میں نتالیہ نے پیرنٹس سرکل سے رابطہ کیا اور انہیں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان رابطے کے لیے ایک نیشنل فون لائن قائم کرنے کا تصور دیا۔ پیرنٹس سرکل نے ان کے اس خیال اتفاق کرتے ہوئے ٹیلی فون لائن ہیلو پیس متعارف کرا دی۔ ہیلو پیس پر شروع ہونے والی گفتگو کا آغاز بھلے چیخوں سے ہوتا ہو لیکن کئی دفعہ اس کا نتیجہ دیرپا دوستیوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ |
اسی بارے میں دو مختلف سمتوں کے مسافر25 June, 2007 | آس پاس فلسطین اور اسرائیل کے رابطے20 June, 2007 | آس پاس جاسمین اور اسامہ: کیا جیتے کیا ہار گئے05 March, 2007 | آس پاس ’تہذیبوں کے اتحاد‘ کی نئی کوشش13 November, 2006 | آس پاس ’غزہ میں حالت فاقوں کے قریب‘03 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||