جاسمین اور اسامہ: کیا جیتے کیا ہار گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھبیس سالہ جاسمین اویسار ایک اسرائیلی یہودی لڑکی ہے۔ اسامہ ظاتر ستائیس سالہ فلسطینی مسلمان ہے۔ ان دونوں کی محبت کاسفر ایک ایسی داستان ہے جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ جاسمین اور اسامہ کی پہلی ملاقات یروشلم میں ہوئی تھی جہاں وہ ایک ساتھ کام کرتے تھے اور تین سال قبل ہی ان کی آپس میں شادی ہوئی ہے۔ شروع میں انہوں نے اسرائیل میں ساتھ رہنے کی کوشش کی لیکن اسرائیلی حکام نے اسامہ کو اپنی بیوی کےساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد ان کی غرب اردن میں رہنے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی کیوں کہ یہاں فلسطینیوں نے ان کا جینا دوبھر کر دیا۔ آخرکار انہوں نے اپنا ملک چھوڑ کر یورپ میں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔
’ہم سیدھے سادھے تھے اور سمجھا کہ ہم یہ جنگ جیت جائیں گے مگر ہم اسے ہار چکے ہیں۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم کسی اور ملک جا کر اپنی زندگی شروع کریں۔‘ جاسمین کو پہلے سے ہی باہر جانے کی اجازت ہے جبکہ اسامہ جلد ہی ان سے جا ملیں گے۔ گاؤں میں ہم ان کےگھر کی چھت پر چڑھے ۔یہاں دھوپ اتنی تیز تھی کہ ہمیں منظر دیکھنے کے لیے اپنی آنکھیں سکیڑ نی پڑیں۔ پتھریلی دیواروں نے پہاڑوں کی طرف بنی بالکنیوں کو سہارا دیا ہوا تھا اوروہاں برسوں پرانے زیتون کے درخت دور دور تک نظر آ رہے تھے۔ ’میں اپنی ہی زمین پر خود کو اجنبی محسوس کرتا ہوں۔یہ ایک مقدس جگہ ہے مگرلوگ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کے ذریعےاپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے ہیں‘۔
یہ ایک منفرد جوڑا ہے جس کی شادی کو نہ تو اسرائیل اور نہ ہی فلسطین نے قبول کیا ہے۔ جاسمین کے پاسپورٹ پر صرف یہ درج ہے کہ اس کی شادی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جاسمین نے بتایا ’ہماری شادی ایک معمول کا عمل ہے ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہوئی اور ہم نے شادی کر لی ۔مجھےسمجھ نہیں آتا کہ لوگ اسے ایک سیاسی مسئلہ کیوں بنا رہے ہیں‘۔ ’مجھےاپناآپ ایک مہاجر محسوس ہوتا ہے۔ جب سے میں نے اپنے معاشرے کے منافی اقدام اٹھایا ہے مجھے بتا دیا گیا کہ میںاب ان کا حصہ نہیں رہی،۔ اتنے میں ٹیکسی پہنچ گئی اور اسامہ نے جاسمین کا سامان اٹھانے میں مدد کی۔ ہم چالیس سال مقبوضہ فلسطین کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے اسرائیلی چیک پوائنٹس تک پہنچے۔
جاسمین نے اپنے ملک کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ ’یہودیوں کے ساتھ ہزاروں سال تک زیادتیاں ہوتی رہیں مگر اب انہوں نے خود زیادتیاں شروع کر دی ہیں۔میرے لیےاس بات کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ اب ہم قابض اور نسل پرست ہیں۔‘ گاڑی آخری چیک پوائنٹ تک پہنچ گئی تھی اور اسامہ میرے سامنے کھڑے مجھے یہ بتا رہے تھے کہ انہوں نے کیوں اپنے ملک کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ’مجھے دھمکیاں مل رہی تھی اور لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کو یہاں لایا تو یہ ہمارے لیے خطرناک ہوگا۔کچھ مجھے غدار کہنے لگے۔‘ ’یہاں تک کہ لوگوں نے مجھے اسرائیلی جاسوس سمجھنا شروع کر دیا۔ اس بات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا میں بطور ایک فلسطینی رہنا چاہتا ہوں یا نہیں۔‘ میں نے اسامہ سے پوچھا کہ وہ اپنی نئی زندگی سے کیا توقع رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا ’میں ایک ایسی جگہ پر رہنا چاہتا ہوں جہاں میں آزادانہ گھوم پھر سکوں۔ مجھے کوئی اسرائیلی فوجی نہ روکے اور میں خود کو محفوظ سمجھوں جو میں نے کبھی خود کو یہاں نہیں سمجھا۔ جاسمین نے مسکراتے ہوئے بتایا ’میری خواہش ہے کہ ہم ایک نارمل جوڑا کہلوائیں۔ جس کو کرایوں اور پیسوں جیسے مسئلے درپیش ہوں نہ کہ اتنے بڑے مسائل جو ہماری شادی میں مداخلت کرے۔‘ اسامہ اب بھی مکمل آزاد نہیں یہاں تک کہ وہ جاسمین کے ساتھ چیک پوائنٹ تک پار نہیں کر سکتا وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کب اپنی بیوی سے ملنےیورپ جا سکے گا۔ وہ ابھی بھی ایک ایسا جوڑا ہے جو فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے میں پھنسا ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||