دو مختلف سمتوں کے مسافر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد فلسطینیوں کے پاس صلح کے راستے کم ہی رہ گئے ہیں۔ ابو امجد نے کہا ’ فلسطینیوں کو ہر حالت میں متحد رہنا ہے۔‘ ابو امجد نے یہ کہا تو ضرور لیکن ان کا چہرہ کوئی اور کہانی سنا رہا تھا۔ جو گاڑی ابو امجد کو رملّہ میں ہماری رہائش گاہ تک لائی اس پر الفتح کی تمام علامتیں موجود تھیں۔ پیچھے دیکھنے والے شیشے کے ساتھ بندھا ہوا سفید و سیاہ فلسطینی سکارف اور کار کے ایریئل پر لہراتا ہوا الفتح کا پیلا پرچم۔ ایک ایسے شہر میں جہاں کے تمام ٹھکانوں پر الفتح کی حکومت ہو، اس قسم کی علامات کوئی اچھنبے کی بات نہیں لیکن ابو امجد کو پھر بھی ڈر لگتا ہے۔ وہ ہمیں صرف ان شرائط پر انٹرویو دینے پر رضامند ہوئے کہ ہم ان کا نام، چہرہ اور آواز کچھ بھی ظاہر نہیں کریں گے۔ غزہ سے ابو امجد اپنے بیوی بچوں سمیت دو ہی دن پہلے بھاگ آئے تھے۔ وہاں انہوں نے تشدد کی انتہا دیکھ لی تھی۔ انہوں نے واکی ٹاکی پر حماس کے کارکنوں کو رونگٹے کھڑے کر دینے والے پیغامات دیتے بھی سن لیا تھا اور گلیوں میں لاشیں بھی دیکھ لی تھیں۔ غزہ میں ابو امجد کے بچے اتنے خوفزدہ ہو چکے تھے کہ انہوں نے صرف سرگوشیوں میں بات کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ جب کھلونے یا ٹافیاں لانے کا بھی کہتے تو ہر رنگ کی فرمائش کرتے سوائے پیلے رنگ کے۔ غزہ میں ہر کوئی، حتیٰ کہ ایک بچہ بھی، جانتا ہے کہ پیلے رنگ کی کوئی بھی شے آپ کے لیے مصیبت بن سکتی ہے۔
جب ابو امجد نے اپنے گھر کی چھت پر کچھ مسلح افراد دیکھے اور انہیں احساس ہوا کہ ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے، انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب غزہ سے نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے ایک بھائی، جو الفتح کے اہم عہدیداروں میں سے ہیں، ابھی تک غزہ میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابو امجد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی ایک بات مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کے مسلح کارکن کسی بھی شخص کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کا شناختی کارڈ دیکھ رہے تھے۔ ہر وہ شخص جس کا شناختی نمبر چار کے ہندسے سے شروع ہوتا تھا وہ انکی نظر میں مشتبہ آدمی تھا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اسرائیل نے انیس سو ترانوے کے اوسلو معاہدے کے بعد واپس آنے والے فلسطینیوں کو جو شناختی نمبر دیے تھے وہ چار کے ہندسے سے شروع ہوتے ہیں۔ واپس آنے والوں میں سے اکثریت کا تعلق یاسر عرفات کے دھڑے سے تھا۔ اس معصوم سے ہندسے سے آپ کو پتا چلتا ہے کہ فلسطینی جدوجہد کا رُخ خود اپنوں ہی خلاف کیوں ہو گیا۔ فلسطینی جدوجہد ایک المیہ بن گئی اور اس میں آپ کو معاشرتی اور سیاسی توڑ پھوڑ کے پس منظر میں صرف خونریز مناظر ہی دیکھنے کو مل رہے تھے۔ برسوں کی جلا وطنی کے بعد جب انیس سو چورانوے میں پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات فاتحانہ انداز میں غزہ میں داخل ہوئے تو ایسا لگتا تھا کہ الفتح فلسطینی قوم کی نمائندہ تنظیم کے طور پر سامنے آئے گی۔ لیکن واپس آتے ہی یاسر عرفات کے ساتھی یہ بھول گئے کہ ان کے آنے سے پہلے بھی وہاں فلسطینی رہ رہے تھے۔
یہ وہ عوتیں اور مرد تھے جو پہلی انتفادہ لڑ چکے تھے اور اپنے خون کی قربانی دے کر اسرائیل کو مجبور کر چکے تھے کہ وہ انہیں ایک طاقت تسلیم کرے۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ غزہ کی پٹی میں نئے آنے والے لوگ ان عورتوں اور مردوں سے کہہ رہے تھے کہ آپ لوگ راستے سے ہٹ جائیں۔ ہم یہاں کے انچارج ہیں۔ آپ سب کچھ ہم پر چھوڑ دیں۔ غزہ اور غرب اردن کے مذہبی اور سیکولر، دونوں لوگوں کے لیے یہ بات بالکل بکواس تھی۔ جب نواردوں نے اپنی نئی دولت دکھانا شروع کی اور دنیا کے غریب ترین علاقے میں اپنے شاندار بنگلے بنانا شروع کر دیے تو لوگوں میں مایوسی پھیلتے دیر نہیں لگی۔ نہ صرف یہ کہ الفتح کے لوگ اپنی دولت دکھا رہے تھے بلکہ حماس کے کارکنوں کو اذیت بھی دی جانے لگی۔ انہیں ہراساں اور گرفتار کیا جانے لگا اور مار پیٹ کر بے عزتی کی جانے لگی۔ اس کے علاوہ نوواردوں میں مقامی لوگوں سے بدلہ لینے کا جذبہ بھی ابھرنے لگا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بدلہ لینے کا یہ جذبہ جنوری سنہ دو ہزار چھ میں اس وقت کتنا بڑھ گیا ہوگا جب جمہوری انتخابات میں کامیابی نے حماس کے قدم چومے۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس کو امید نہیں تھی کہ لوگ اتنی جلدی انہیں حکومت کے لیے منتخب کر لیں گے۔ بلکہ ان کی خواہش یہ تھی کہ انہیں فلسطینی جدوجہد کا جائز حصہ سمجھا جائے۔
لیکن عین وقت پر یہ کام الفتح نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے مخالفین کو نیست و نابود کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور اسرائیل نے فضائی حملوں اور حماس کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے ذریعے اس مشکل کام میں الفتح کی بھرپور مدد کی۔ نہ صرف یہ بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھی حماس کے دہشتگردی کی سیاست سے تعلق کی بنیاد پر اس کو چُپ کرا دیا، حالانکہ خطے میں موجود کئی لوگ یہ مشورہ دیتے رہے کہ حماس حکومت کے ساتھ بات چیت زیادہ پر اثر ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ حماس کے حامیوں کو یقین ہو گیا کہ وہ ایک بین الاقوامی سازش کا نشانہ ہیں جس کا مقصد انہیں تباہ کرنا ہے۔ آپ اکثر سنتے رہتے ہیں کہ غزہ میں فلاں نے کب کیا کِیا، کس نے پہل کی، لیکن ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ سچ یہ ہے کہ حماس نے انتخابات میں واضح فتح حاصل کر لی تھی اور اس کے بعد پُرتعیش مکانات سمیت ہر اس شے کو گرانا شروع کر دیا تھا جو الفتح کی بدحکمرانی کی علامت تھی۔ لیکن جو بات دلچسپ ہے وہ یہ ہے کہ اس دوران حماس کو ایک مرتبہ پھر حیرت ہوئی۔ انتخابات میں اپنی جماعت کی حیرت انگیز کامیابی کے بعد اب حماس کے بندوق بردار کارکنوں کو بھی پتا چل گیا کہ ان کے لیے عسکری جنگ جیتنا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ غزہ میں میرے ایک دوست نے، جو اس بات پر خوش ہے کہ اب غزہ کی گلیاں بہت محفوظ ہو گئی ہیں، مجھے بتایا کہ اب حماس شدید مخمصہ میں ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ ان کا حکومت میں آنے کا کوئی منصوبہ نہیں بلکہ یہاں تک کہ ان کو ایسی کوئی خواہش بھی نہیں۔ لیکن اگر حماس کو اس بات کا انتظار ہے کہ الفتح خود چل کر ان کے پاس آئے گی تو یہ حماس کی بھُول ہے۔ گزشتہ منگل کو الفتح کے مرکزی رہنماؤں نے حماس کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا ہے۔ فی الحال بدلہ لینے کی خواہش بہت شدید ہے، جس سے مجھے خدشہ ہے کہ معاملات مزید بگڑیں گے۔ رملّہ میں اپنے قیام کے دوران میں حماس کے ایک اہم سیاستدان عبدالعزیز دویک کا گھر بھی دیکھنے گئے جسے اسی رات حملہ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ عبدالعزیز گزشتہ ایک سال سے اسرائیلی جیل میں پڑے ہوئے تھے۔ لیکن ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں اور دیوار پر خون کے نشانات شاید اس جیل سے زیادہ بدنما تھے۔ ’یہ سب دیکھنے کے بعد بھی آپ صلح کی بات کرتے ہیں؟‘ابو امجد نے کہا۔ ’نہیں صلح نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی بھی خون کو نہیں بھول سکتا، خاص طور پر جب خون بہانے والے آپ کے اپنے بھائی ہوں۔ ہم فلسطینی ایک ہی لوگ ہیں لیکن اِس وقت ہم دو مختلف بحری جہازوں میں سوار ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں جا رہے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||