BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 June, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ پر آپ کے سوالوں کے جوابات
غزہ اور اسرائیل کے درمیان ایرز کی کراسنگ پر فلسطینی قطار میں
غزہ اور اسرائیل کے درمیان ایرز کی کراسنگ پر فلسطینی قطار میں
غزہ کی پٹی پر اس وقت حماس کا کنٹرول ہے تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے جو نئی فلسطینی حکومت تشکیل دی ہے، اس میں حماس کو شامل نہیں کیا گیا۔

غزہ میں تازہ ترین حالات پر آپ کے بھیجے ہوئے منتخب سوالوں کے بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر جیریمی بوون نے جوابات دیئے ہیں۔


ایلیٹ لیٹن، نیوفاؤنڈ لینڈ، کینیڈا:
ہمیں اس کے متعلق بہت کم سننے کو ملتا ہے کہ اس نئی فتح حکومت کو فلسطینی عوام کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا انہیں لگتا ہے کہ ان کی جمہوری طور منتخب کی گئی حماس حکومت کو بیرونی اثر ونفوذ کے ذریعے ناجائز طریقے سے بےدخل کردیا گیا ہے؟

جیریمی بوون:
اس ہفتے پولز کے ذریعے کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ فلسطینی کیا سوچتے ہیں۔ نیئر ایسٹ نامی ایک کمپنی کے سروے سے یہ سامنے آیا ہے کہ الفتح کے صدر محمود عباس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے اور حماس کے برطرف کئے جانے والے وزیرِ اعظم اسماعیل ہنیہ کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔

جب یہ پوچھا گیا کہ آیا حماس کی حکمتِ عملی بہتر ہے یا الفتح کی تو مغربی پٹی اور غزہ میں ستر فیصد فلسطینی فتح کی حکمتِ عملی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تریسٹھ فیصد فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے حق میں ہیں۔

رضا کے ایف، لندن:
آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مغرب کا رویہ عرب دنیا کی پہلی منتخب حکومت (حماس، خواہ وہ جتنی بھی انتہا پسندانہ کیوں نہ ہو) کے بارے میں درست ہے؟
جیریمی بوون:
پہلی بات تو یہ کہ حماس عرب دنیا کی واحد منتخب حکومت نہیں ہے۔ عراق اور لبنان کی حکومتیں بھی منتخب شدہ ہیں۔

فلسطینی ریاست ہے ہی نہیں!
News image
 دو ہزار چھ میں فلسطینی لیجسلیٹو کاؤنسل کے انتخابات میں جیتنے کے بعد حماس نے جو انتظامیہ تشکیل دی تھی، وہ حکومت نہیں تھی کیونکہ فلسطینیوں کے پاس کوئی ریاست ہے ہی نہیں۔
جیریمی بوون

پھر دو ہزار چھ میں فلسطینی لیجسلیٹو کاؤنسل کے انتخابات میں جیتنے کے بعد حماس نے جو انتظامیہ تشکیل دی تھی، وہ حکومت نہیں تھی کیونکہ فلسطینیوں کے پاس کوئی ریاست ہے ہی نہیں۔ حماس کو فلسطینی انتظامیہ چلانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ انتظامیہ انیس سو نوے کے اوسلو پیس پراسس کے نتیجے میں ایک عبوری مرحلے کے طور پر وجود میں لائی گئی تھی جو ریاست کے قیام کی طرف ایک قدم تھا۔ حقیقت میں اس کی انتظامی ذمہ داریاں نچلے درجے ہیں۔

بیرونی ممالک کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ حماس کو صرف اس لیے تسلیم کرلیں کہ وہ منتخب ہوکر آئی ہے۔ تاہم ایسے نہ کرنے سے خصوصاً امریکی پالیسی ایک جیسی نہیں دکھائی دی کیونکہ اسرائیل اور محمود عباس کے شکوک کے باوجود امریکہ نے جنوری دو ہزار چھ کے انتخابات کے لیے بہت دباؤ ڈالا تھا۔

تب سے امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں آزادنہ انتخابات کے لیے دباؤ ڈالنے پر چپ سادھ لی ہے۔ بش انتظامیہ کا یہ خیال کہ تمام مسائل کے حل کے لئے انتخابات کروا کر جمہوریت لے آئی جائے، بہت سادہ پسندی سے عبارت ہے۔ جمہوریت کی نشوونما ایک ایسا عمل ہے جو بنیادی طور پر کسی ملک کے اندر سے جڑ پکڑتا ہے۔ اسے مسلط کرنا آسان نہیں۔

حماس کو تنہا کرنے کی پالیسی کا مقصد اسے یا تو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا تھا اور یا تنہا کردینا تھا۔ حماس نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، نہ ہی ایسا ہونا ممکن لگتا ہے اور اب اس کا غزہ کی پٹی پر کنٹرول ہے اگرچہ اس کے وزیرِ اعظم اور دوسرے وزراء کو صدر عباس نے برطرف کردیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ حماس کو تنہا کرکے اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے۔

موشے شین، اسرائیل:
بی بی سی اب تک سب سے قابلِ بھروسہ اداسرہ ہے۔۔۔ لیکن یہ متعصب بھی ہے۔ آخر بی بی سی ’شدت پسند‘ کا لفظ استعمال کرنے سے کیوں کتراتا ہے؟

جیریمی بوون:
بی بی سی متعصب نہیں ہے۔ ہم خبروں کی کوریج میں غیرجانبدار رویہ رکھتے ہیں اور سچ تک پہنچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات وہ لوگ ہماری کوریج پسند نہیں کرتے، جو کسی ایک نقطہِ نظر پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں۔

بی بی سی جانبدار نہیں ہوسکتی!
News image
 زیادہ تر فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف تشدد کو ایک جائز مدافعت سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیلی اسے دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔ اگر بی بی سی ان میں سے کسی ایک کی بات مان لے تو ہم غیرجانبدار نہیں رہتے۔
جیریمی بوون

میرا خیال ہے کہ آپ ہماری ’دہشت گرد‘ کا لفظ استعمال نہ کرنے کی پالیسی کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ ہماری پالیسی ہے کہ ہم ایسے الفظ نہ استعمال کریں جو سیاسی جانبداری سے بھرے ہونے کا تاثر دیں، اور جن کے استعمال سے بات سمجھنے میں دشواری پیش آئے۔ زیادہ تر فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف تشدد کو ایک جائز مدافعت سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیلی اسے دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔

اگر بی بی سی ان میں سے کسی ایک کی بات مان لے تو ہم غیرجانبدار نہیں رہتے۔

’شدت پسند‘ بھی کوئی بہت اچھا انتخاب نہیں۔ میں وہ بیان کرنے کو ترجیح دیتا ہوں جو لوگ کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی نے بم لگایا ہے تو میں اسے بمبر کہوں گا اور یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ اس بم نے کیا۔

سرگی کارپوو، ماسکو/ نیویارک:
آپ کیا سمجھتے ہیں، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ مغربی نامہ نگاران غیرجانبدارنہ یا اسرائیل کے حق میں رپورٹ کریں اور شدت پسندوں کا ہدف نہ بنیں؟

جیریمی بوون:
بدقسمتی سے بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن مارچ میں اغوا کرلیے گئے تھے اور آج جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو انہیں غائب ہوئے سو دن پورے ہوگئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جانسٹن کو ان کی رپورٹس کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے اغوا کیا گیا کہ وہ وہاں میڈیا کی سب سے جانی پہچانی شخصیت تھے۔

پال، لندن:
کیا حالیہ برسوں میں حماس کی کامیابی الفتح کے بارے میں سمجھی جانے والی کرپشن کا نتیجہ ہے یا یہ وسیع پیمانے پر پایا جانے والا وہ ٹرینڈ ہے جس میں لوگ مذہبی بنیاد پرستی کو سیکولر قوم پرستی پر ترجیح دینے لگے ہیں؟ کیا باقی مشرقِ وسطی میں بھی زیادہ تر یہی ہورہا ہے؟

جیریمی بوون:
جنوری دو ہزار چھ میں حماس انتخابات میں الفتح کی کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے جیتی۔ حماس مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اسلام کی سب سے بڑی تحریک اخوان المسلمین کی ایک شاخ ہے تاہم یہ ایک قوم پرست تنظیم بھی ہے۔

جواب مسجد میں ملتا ہے
News image
 انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں اسرائیل کی فتح کے بعد سے عرب دنیا میں سیکولر قوم پرستی زوال پذیر ہے۔ اب زیادہ تر لوگوں کو اپنے سوالوں کا جواب مسجد میں ملتا ہے۔
جیریمی بوون

انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں اسرائیل کی فتح کے بعد سے عرب دنیا میں سیکولر قوم پرستی زوال پذیر ہے۔ اب زیادہ تر لوگوں کو اپنے سوالوں کا جواب مسجد میں ملتا ہے۔ آمرانہ حکومتوں نے بھی، مصر ایک اچھی مثال ہے، اپنے ہاں سیکولر اور جمہوری حزب اختلاف کی تعمیر ناممکن بنائی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ احتجاج کا واحد راستہ اسلامی سیاست ہی رہ گئی ہے۔

مائک رین، لمرک، ائرلینڈ:
آپ کے خیال میں فلسطینی اتھارٹی میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟ اسرائیل، دوسری ریاستیں یا فلسطینیوں کے درمیان قومی اتحاد؟

جیریمی بوون:
چونکہ نہ وہاں امن ہے اور نہ ہی امن کا پراسیس، اس لیے اس سوال کا جواب مشکل ہے۔

اگر تو ابھی بھی ارادا ایک ایسے امن کی تخلیق کا ہے جس کی بنیاد فلسطینی ریاست پر ہو اور جو اسرائیل کے ساتھ قائم رہ سکے، (اولمرت اور بش نے اس ہفتے واشنگٹن میں اپنے مذاکرات کے موقعہ پر یہی کہا) اور اگر وہ اس میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں کوشش کرکے اتفاقِ رائے سے طے کرنا ہوگا کہ وہ کس قسم کی ریاست کی بات کررہے ہیں۔

کیا وہ جس ریاست کی بات کررہے ہیں، اس کی سرحدیں وہی ہوں گی جو انیس سو سڑسٹھ میں تھیں یا اس سے کم؟ کیا اس کا مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ہوگا اور کیا یہ درحقیقت آزاد اور خودمختار ہوگی؟

عرب ملک تو پہلے ہی ایک اسرائیل کے ہمراہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے خواہشمند ہیں جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں ہو اور اس کی سرحدیں وہی ہوں جو انیس سو سڑسٹھ میں تھیں۔

خالد میشاللڑائی کی تیاریاں
ہم سیاسی جمود کا شکار ہو گئے ہیں
احمد قریعانتخابات سے دستبردار
وزیر اعظم کے طور پر اپنا کام جاری رکھوں گا: قریع
فلسطین کا جھنڈافلسطین: آئینی ڈھانچہ
نئی مقننہ کے انتخابات پچیس جنوری کو
حماسحماس کیا ہے؟
فلسطینی انتخابات میں کامیاب حماس کیا ہے
اسماعیل ہنیہ قومی اتحاد کی اپیل
فلسطینیوں سے اسماعیل ہنیہ کی اپیل
محمود عباسامریکہ کا نیا منصوبہ
محمود عباس کو منظور، اسماعیل ہنیہ کو نامنظور
’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد