غزہ پر آپ کے سوالوں کے جوابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی پٹی پر اس وقت حماس کا کنٹرول ہے تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے جو نئی فلسطینی حکومت تشکیل دی ہے، اس میں حماس کو شامل نہیں کیا گیا۔ غزہ میں تازہ ترین حالات پر آپ کے بھیجے ہوئے منتخب سوالوں کے بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر جیریمی بوون نے جوابات دیئے ہیں۔ ایلیٹ لیٹن، نیوفاؤنڈ لینڈ، کینیڈا: جیریمی بوون: جب یہ پوچھا گیا کہ آیا حماس کی حکمتِ عملی بہتر ہے یا الفتح کی تو مغربی پٹی اور غزہ میں ستر فیصد فلسطینی فتح کی حکمتِ عملی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تریسٹھ فیصد فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے حق میں ہیں۔ رضا کے ایف، لندن:
پھر دو ہزار چھ میں فلسطینی لیجسلیٹو کاؤنسل کے انتخابات میں جیتنے کے بعد حماس نے جو انتظامیہ تشکیل دی تھی، وہ حکومت نہیں تھی کیونکہ فلسطینیوں کے پاس کوئی ریاست ہے ہی نہیں۔ حماس کو فلسطینی انتظامیہ چلانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ انتظامیہ انیس سو نوے کے اوسلو پیس پراسس کے نتیجے میں ایک عبوری مرحلے کے طور پر وجود میں لائی گئی تھی جو ریاست کے قیام کی طرف ایک قدم تھا۔ حقیقت میں اس کی انتظامی ذمہ داریاں نچلے درجے ہیں۔ بیرونی ممالک کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ وہ حماس کو صرف اس لیے تسلیم کرلیں کہ وہ منتخب ہوکر آئی ہے۔ تاہم ایسے نہ کرنے سے خصوصاً امریکی پالیسی ایک جیسی نہیں دکھائی دی کیونکہ اسرائیل اور محمود عباس کے شکوک کے باوجود امریکہ نے جنوری دو ہزار چھ کے انتخابات کے لیے بہت دباؤ ڈالا تھا۔ تب سے امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں آزادنہ انتخابات کے لیے دباؤ ڈالنے پر چپ سادھ لی ہے۔ بش انتظامیہ کا یہ خیال کہ تمام مسائل کے حل کے لئے انتخابات کروا کر جمہوریت لے آئی جائے، بہت سادہ پسندی سے عبارت ہے۔ جمہوریت کی نشوونما ایک ایسا عمل ہے جو بنیادی طور پر کسی ملک کے اندر سے جڑ پکڑتا ہے۔ اسے مسلط کرنا آسان نہیں۔ حماس کو تنہا کرنے کی پالیسی کا مقصد اسے یا تو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا تھا اور یا تنہا کردینا تھا۔ حماس نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، نہ ہی ایسا ہونا ممکن لگتا ہے اور اب اس کا غزہ کی پٹی پر کنٹرول ہے اگرچہ اس کے وزیرِ اعظم اور دوسرے وزراء کو صدر عباس نے برطرف کردیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ حماس کو تنہا کرکے اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ موشے شین، اسرائیل: جیریمی بوون:
میرا خیال ہے کہ آپ ہماری ’دہشت گرد‘ کا لفظ استعمال نہ کرنے کی پالیسی کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ ہماری پالیسی ہے کہ ہم ایسے الفظ نہ استعمال کریں جو سیاسی جانبداری سے بھرے ہونے کا تاثر دیں، اور جن کے استعمال سے بات سمجھنے میں دشواری پیش آئے۔ زیادہ تر فلسطینی اسرائیلیوں کے خلاف تشدد کو ایک جائز مدافعت سمجھتے ہیں جبکہ اسرائیلی اسے دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔ اگر بی بی سی ان میں سے کسی ایک کی بات مان لے تو ہم غیرجانبدار نہیں رہتے۔ ’شدت پسند‘ بھی کوئی بہت اچھا انتخاب نہیں۔ میں وہ بیان کرنے کو ترجیح دیتا ہوں جو لوگ کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی نے بم لگایا ہے تو میں اسے بمبر کہوں گا اور یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ اس بم نے کیا۔ سرگی کارپوو، ماسکو/ نیویارک: جیریمی بوون: پال، لندن: جیریمی بوون:
انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں اسرائیل کی فتح کے بعد سے عرب دنیا میں سیکولر قوم پرستی زوال پذیر ہے۔ اب زیادہ تر لوگوں کو اپنے سوالوں کا جواب مسجد میں ملتا ہے۔ آمرانہ حکومتوں نے بھی، مصر ایک اچھی مثال ہے، اپنے ہاں سیکولر اور جمہوری حزب اختلاف کی تعمیر ناممکن بنائی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ احتجاج کا واحد راستہ اسلامی سیاست ہی رہ گئی ہے۔ مائک رین، لمرک، ائرلینڈ: جیریمی بوون: اگر تو ابھی بھی ارادا ایک ایسے امن کی تخلیق کا ہے جس کی بنیاد فلسطینی ریاست پر ہو اور جو اسرائیل کے ساتھ قائم رہ سکے، (اولمرت اور بش نے اس ہفتے واشنگٹن میں اپنے مذاکرات کے موقعہ پر یہی کہا) اور اگر وہ اس میں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں کوشش کرکے اتفاقِ رائے سے طے کرنا ہوگا کہ وہ کس قسم کی ریاست کی بات کررہے ہیں۔ کیا وہ جس ریاست کی بات کررہے ہیں، اس کی سرحدیں وہی ہوں گی جو انیس سو سڑسٹھ میں تھیں یا اس سے کم؟ کیا اس کا مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ہوگا اور کیا یہ درحقیقت آزاد اور خودمختار ہوگی؟ عرب ملک تو پہلے ہی ایک اسرائیل کے ہمراہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے خواہشمند ہیں جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں ہو اور اس کی سرحدیں وہی ہوں جو انیس سو سڑسٹھ میں تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||