غزہ کو تیل کی بندش پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کے لیے ڈیزل اور پٹرول کی سپلائی میں اسرائیل نے اتوار سے کمی کی جو کارروائی شروع کی ہے اس پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ یہ بات ہرگز قبول نہیں کی جاسکتی کہ غزہ کے پورے علاقے کی آبادی کو سزا دی جائے۔ غزہ سے اسرائیلی علاقے پر راکٹ حملوں کی وجہ سےاسرائیل گزشتہ مہینے اسے دشمن علاقہ قرار دے چکا ہے۔ اسرائیلی اٹارنی جنرل نے اس تخفیف کی منظوری دی ہے لیکن انہوں نے بجلی میں کمی کو منظور نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک یہ اندازہ نہیں لگا لیا جاتا کہ اس کا اثر عام شہریوں پر کیا پڑے گا اس وقت تک بجلی نہیں کاٹی جائے گی۔ حقوق انسانی کے گروپ کہتے ہیں کہ غزہ کی بجلی کی سپلائی بند کرنا غیر قانونی ہوگا۔ یورپی یونین نے بھی غزہ کو تیل کی سپلائی میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے تیل کی کمی حماس کے خلاف اس کے آخری گڑھ میں دباؤ بڑھانے کا پر امن طریقہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے ایک بیان میں فلسطینی عسکریت پسندوں سے کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف راکٹوں کے حملے بند کر دیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں غزہ کی پوری آبادی کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی کمی غزہ کی چودہ لاکھ کی آبادی کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔ | اسی بارے میں غزہ، ایندھن کے لیے امداد بحال22 August, 2007 | آس پاس غزہ اسرائیل کے لیے ’دشمن علاقہ‘19 September, 2007 | آس پاس غزہ میں جھڑپیں، تین ہلاک21 October, 2007 | آس پاس غزہ: نماز پر پابندی کی خلاف ورزی07 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||