غزہ میں جھڑپیں، تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں حماس اور اس کے مخالف گروہوں کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔ کچھ جھڑپیں رفاہ کے علاقے میں حماس اور اسلامک جہاد کے کارکنوں کے مابین ہوئیں جبکہ غزہ شہر میں ہونے والی جھڑپوں میں حماس اور الفتح کا ایک حامی گروہ مدِ مقابل تھا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں ایک تیرہ سالہ بچہ محمد سوسی بھی شامل ہے جو دو طرفہ فائرنگ کے دوران سر میں گولی لگنے سے ہلاک ہوا جبکہ الفتح کے حامی حلس قبیلے کا ایک فرد بھی دستی بم پھٹنے سے مارا گیا۔ حماس حکام کے مطابق سنیچر کو ہونے والی جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب حلس قبیلے کے لوگوں نے ایک ایسی گاڑی پر گولیاں چلائیں جس میں حماس کے سکیورٹی اہلکار سوار تھے۔عینی شاہدین کے مطابق اس واقعے کے بعد حماس کے نشانہ باز عمارتوں کی چھتوں پر چڑھ گئے جبکہ قبیلے والوں نے علاقے کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے مارٹر گولوں اور راکٹ کی مدد سے پھینکے جانے والے بموں کا استعمال ہوا۔ ادھر حماس کے ایک سینئر رہنما محمود ظہار نے کہا ہے کہ حماس علاقے میں قانون کی عملداری کے نفاد کے لیے پر عزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ سب لوگ نئی انتظامیہ سے تعاون کریں اور غربِ اردن اور غزہ کے لوگوں کی یہی خواہش ہے کہ حماس ہی ان کی حاکم ہو‘۔ حماس کی جانب سے اس برس جون میں غزہ کا انتظام سنبھالے جانے کے بعد اب تک کی سب سے خونریز جھڑپوں میں جمعرات سے اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ جھڑپیں گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوئی تھیں جب حماس کی ایگزیکٹو فورس نے الفتح تنظیم کے حامی حلس قبیلے کے ارکان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی۔ | اسی بارے میں مشرق وسطی کے ثالثی گروپ پرتنقید15 October, 2007 | آس پاس حماس الفتح سے مذاکرات کی خواہاں11 October, 2007 | آس پاس گیارہ فلسطینی ہلاک، بیس زخمی28 September, 2007 | آس پاس غزہ اسرائیل کے لیے ’دشمن علاقہ‘19 September, 2007 | آس پاس غزہ: نماز پر پابندی کی خلاف ورزی07 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||