BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ اسرائیل ڈیل: ایک تجزیہ

اخلافات کی وجہ سے نکولس برنز اسرائیل تاخیر سے پہنچے
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے تیس ارب ڈالر کے حالیہ معاہدے کے تحت آنے والے برسوں میں جتنا اسلحہ اسرائیل کو دیا جانا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو کُل تیس ارب ڈالر کی مالیت کی دفاعی امداد فراہم کی جائے گی جو کہ گزشتہ دہائی کے دوران ملنے والی چوبیس ارب ڈالر کی امداد میں بہت بڑا اضافہ ہے۔

یہ اسرائیل کے لیے بہت اچھی خبر ہے۔

گزشتہ سال موسم گرما میں اسرائیل اور لبنان میں موجود حزب اللہ کے درمیان جنگ میں اسرائیلی دفاعی افواج یا آئی ڈی ایف میں تربیت کی کمی کھل کر سامنے آ گئی تھی۔

اس کمی کو دور کرنے کے لیے مزید اخراجات کی ضرورت ہو گی لیکن اسرائیلی توپ خانے اور پیادہ فوج کی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ اسے اپنی آبادی پر میزائل حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بہتر اور جدید دفاعی نظام بھی درکار ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل کے دفاعی منصوبہ سازوں کو ایران کی طرف سے ممکنہ خطرے کا سامنا کرنے کی تیاری کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

پس اسرائیل کے پاس ایسے منصوبوں کی کوئی کمی نہیں ہے جہاں وہ یہ اخراجات کر سکے گا۔

قسطوں کی تعداد میں اضافہ

ابھی تک ساری چیزیں اسرائیل کی مرضی کی مطابق نہیں ہوئی ہیں۔

 اسرائیل کی وزارت دفاع کو اختیار ہوگا کہ وہ امداد کا پچیس فیصد ملک کے اندر خرچ کر سکے گی۔ اسرائیل کے لیے یہ بات اہم ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنی صنعت کو بھی قائم رکھ سکتا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق ملک کے اندر بھی ہتھیار بنا سکے گا

بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں امریکہ کے سیاسی امور کے نائب وزیر خارجہ نکولس برنز کے اسرائیل کے دورے کو مؤخر بھی اسی لیے کیا گیا کیونکہ امریکہ کو لگا کہ وہ اس طرح امداد دینے کے قابل نہیں ہے جس طرح اسرائیل چاہتا ہے۔

اسرائیل کی خواہش تھی کہ اسے مذکورہ امداد اگلے دس برس میں ہر سال برابر قسطوں میں ملے، لیکن امریکہ کا فیصلہ ہے کہ امداد میں ہر سال بتدریج ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں ہوگا یہ کہ اسرائیل کی خواہش کے برعکس اس معاہدے کے ابتدائی برسوں میں اسے کم امداد ملے گی۔

معاہدے کے تحت اسرائیل کی وزارت دفاع کو اختیار ہوگا کہ وہ امداد کا پچیس فیصد ملک کے اندر خرچ کر سکے گی۔ اسرائیل کے لیے یہ بات اہم ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنی صنعت کو بھی قائم رکھ سکتا ہے اور اپنی ضرورت کے مطابق ملک کے اندر بھی ہتھیار بنا سکے گا۔

بلکہ اسرائیل کی خواہش شاید یہ ہو کہ اسے پچیس فیصد سے زیادہ امدادی رقم کو اندرون ملک اسلحہ سازی پر خرچ کرنے کی اجازت ہونا چاہیئے لیکن امریکہ کی اپنی اسلحہ ساز لابی کے دباؤ میں بُش انتظامیہ اسے یہ رعایت دینے سے قاصر تھی۔

وسیع تر حکمت عملی

قطع نظر اس بات کے کہ اس سے اسرائیل کی مسلح افواج کو کتنا بڑا فائدہ ہوگا، اس معاہدے سے یہ واضح پیغام بھی ملتا ہے کہ امریکہ اس خطے میں اپنے سب سے بڑے حلیف کی امداد جاری رکھے گا۔

اسرائیل بلاشبہ خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے

لیکن دیکھا جائے تو امریکہ کی یہ دفاعی عنایات صرف اسرائیل پر نہیں ہیں۔

جولائی کے آخری ہفتے میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اربوں ڈالر کی جس دفاعی ڈیل کی نقاب کشائی کی تھی اس میں اسرائیل کو دی جانے والی امداد کے علاوہ مصر، سعودی عرب اور خلیج فارس میں دوسرے اہم امریکی حلیفوں کو مزید ہتھیار فراہم کرنے کے سودے بھی شامل تھے۔

اس اربوں ڈالر کی ڈیل کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ اس سے اعتدال پسند قوتوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور وہ القاعدہ، حزب اللہ، شام اور ایران کے منفی اثرات کا بہتر مقابلہ کر سکیں گی۔‘

خاص طور پر مصر اور سعودی عرب کو مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں کونڈولیزا رائس کا استدلال یہ تھا کہ اس سے خطے میں شدت پسندی کے خلاف لڑنے میں ’ہمارے حلیفوں‘ کے حوصلوں میں اضافہ ہوگا اور خطے میں رہنماء ممالک کے طور پر ان کا کردار مضبوط ہوگا۔

 لگتا یہ ہے کہ خطے میں جمہوریت کے پھیلاؤ کی جس حکمت عملی پر امریکہ نے مجبوراً اکتفا کیا ہے اس کے مد نظر امریکہ واپس اپنی دیرینہ پالیسی پر واپس آ گیا ہے۔امریکہ کا خیال شاید یہ ہے کہ مشترکہ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے اتحادیوں کو خوب مسلح کیا جائے

’یہ کوئی حل نہیں‘

ان معاہدوں کے ناقدین یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس خطرناک خطے کے ممالک کو مزید ہتھیاروں کی فراہمی سے علاقے میں امن قائم کرنے کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔

ان ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی امداد میں اضافے کی وجہ ہی یہ ہے کہ وہ مصر اور سعودی عرب کو دیے جانے والے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کر سکے۔

لگتا یہ ہے کہ خطے میں جمہوریت کے پھیلاؤ کی جس حکمت عملی پر امریکہ نے مجبوراً اکتفا کیا ہے اس کے مد نظر امریکہ واپس اپنی دیرینہ پالیسی پر واپس آ گیا ہے۔ اس حمکت عملی سے خدشہ یہ ہے کہ آنے والے چند برسوں میں خطے میں بدامنی میں اضافہ گا لیکن امریکہ کا خیال شاید یہ ہے کہ مشترکہ دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے اتحادیوں کو خوب مسلح کیا جائے۔

ہتھیاروں کی فراہمی بذات خود اس خطے کے مسائل کا حل نہیں ہے، لیکن شاید محض یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس سے خطے کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

بُش انتظامیہ کے ہاتھوں صدام حسین کا تختہ الٹنے سے عراق میں جو غیر استحکامی کیفیت پیدا ہوئی ہے اس کا دائرہ عراق کی سرحدوں سے باہر تک پھیل گیا ہے۔ اس سے خطے کے دفاعی نقشے کی بنیادیں تبدیل ہو گئی ہیں۔

اور اس کے ساتھ ایران کی بڑھتی ہوئی قوت سے خطے میں امریکہ کے اتحادی اپنی سلامتی کے لیے پریشان ہو رہے ہیں۔

ان ممالک کی پریشانیوں کو ختم کرنا خطے میں استحکام پیدا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

لیکن ان ممالک کو صرف ہتھیاروں کی فراہمی سے یہ کام نہیں ہوگا۔ بلکہ ہتھیاروں کی فراہمی ایک ایسی حمکت عملی کا حصہ ہونا چاہیئے جس میں سفارتی کوششیں بھی شامل ہوں اور ممکنہ دشمنوں سے نمٹنے کے لیے کبھی نرمی کبھی سختی کی پالیسی بھی شامل ہو۔

بش انتظامیہ کے کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس نے امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں بڑھا دی ہیں لیکن ابھی تک اسے سمجھ نہیں آیا کہ ہتھیاروں کی فراہمی اور سفارتی کوششوں کا ملاپ کیسے کرے۔

ثبوت نہیں ملا
ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری
 اسلحہاسلحہ کا بازار گرم
پابندیوں کے باوجود اسلحہ لینا مشکل نہیں
فلسطینی بچیغزہ پر یواین رپورٹ
’اسرائیلی کارروائیاں نسل پرستی جیسی ہیں‘
لبنانلبنان پر فاسفورس بم
فاسفورس بموں استعمال کیا: اسرائیلی اعتراف
اسرائیلی آپشنز
حزب اللہ کے میزائیل، اسرائیل کی شرمندگی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد