فلسطینی ریاست: ایک اور ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کے درمیان یروشلم میں مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ماہ کے اندر اندر یہ تیسری ملاقات ہے۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست اور غربِ اردن میں سکیورٹی کے انتظامات جیسے معاملات پر ملاقات کے دوران پیشرفت ہوئی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے حال ہی میں خطے کا دورہ مکمل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوری میں صدر بش کے اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل امن معاہدہ ہونے کا امکان بدستور موجود ہے۔ مئی کے آخر میں صدر بش بھی اسرائیل کا دورہ کریں گے اور اسرائیلی ریاست کی بنیاد پڑنے کی ساٹھویں سالگرہ کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات نومبر میں صدر بش کی میزبانی میں منعقدہ مشرقِ وسطیٰ کانفرنس کے دوران شروع ہوئے تھے۔ تاہم ابھی تک ان مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ سرکاری اہکاروں کے مطابق پیر کو اسرائیلی وزیرِ اعظم نے محمود عباس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ فلسطینی یہ سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے کے چلنے کے لیے ضروری ہے کہ عام شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو۔ اہلکاروں کے مطابق فریقین نے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے نقشے بھی ایک دوسرے کو دیئے جس سے بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ اختلافات میں قدرے کمی آئی ہے۔ | اسی بارے میں بش کے دورہِ مشرق وسطیٰ کی تیاریاں08 January, 2008 | آس پاس ’بُش کی آمد، اسرائیلی حملے تیز‘ 07 January, 2008 | آس پاس اسرائیل نئے مکانوں کی تعمیر پر مصر23 December, 2007 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ: نئے ایلچی کا تقرر29 November, 2007 | آس پاس غزہ میں ایندھن کی سپلائی کی اجازت19 August, 2007 | آس پاس مشرق وسطی امن کانفرنس 26 November, 2007 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||