امریکہ: اسرائیلی جاسوس پر مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اپنے چوراسی سالہ شہری کے خلاف اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا ہے۔ امریکہ محکمہ انصاف نے بین ایمی کادیش پر الزام عائد کیا کہ اس نے انیس سو اسی کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں، جنگی طیاروں اور پیٹریاٹ میزائلوں کے بارے میں خفیہ معلومات اسرائیل کے حوالے کیں۔ کادیش نے دس سال تک نیو جرسی میں قائم ایک فوجی سازوسامان کے تحقیقی ادارے میں بطور انجنیئر کام کیا اور اس دوران وہاں سے خفیہ معلومات چرا کر اسرائیل کے حوالے کیں۔ چوراسی اسرائیلی جاسوس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ خفیہ معلومات جمع کر کے گھر لےجاتا تھا جہاں ایک اسرائیل شہری ان کی نقل بنا لیتا تھا۔خفیہ دستاویز کی نقل تیار کرنے والے شخص اسرائیلی ایمبسی میں کام کرتا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان ٹام کے سی نے کہا ہے کہ ملزم کی سرگرمیاں کا تعلق دو دہائیوں پرانے واقعات سے ہے۔ کادیش کا تعلق بھی اسرائیلی جاسوس پولارڈ سے تھا جو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا پانے کے بعد عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ دو دہائیاں پہلے جب پولارڈ کا معاملہ سامنے آیا تھا تو اس وقت کہاگیا کہ امریکہ اپنے دوستوں سےاس طرح کے رویے کی توقع نہیں رکھتا لیکن آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے۔ اسرائیل نے ابھی تک اس واقعے پر اپنے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’جاسوسی کی پیشکش پر مقدمہ‘23 November, 2007 | آس پاس ’جاسوسی نہیں، پروپیگنڈا کیا‘29 November, 2007 | آس پاس امریکہ: چینی جاسوس کو عمر قید25 March, 2008 | آس پاس پینٹاگون کے ماہر پر جاسوسی کا الزام01 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||