’جاسوسی نہیں، پروپیگنڈا کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں جوہری امور کے سابق مذاکرات کار حسین مُوسویان کو جن پر تین الزامات لگے تھے، جاسوسی کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔ تاہم ایک ایرانی عدالت کے مطابق ان کے خلاف پروپیگنڈے کا الزام ثابت ہوا ہے۔ حسین مُوسویان سابق صدر اور محمود احمدی نژاد کے حریف، ہاشمی رفسنجانی کے قریبی ساتھی ہیں۔ عدلیہ کے ایک ترجمان کے مطابق موساویان پر تین الزام تھے: جاسوسی، خفیہ دستاویزات اپنے پاس رکھنا اور موجودہ ایرانی نظام کے خلاف پروپیگینڈا کرنا۔ انہیں پہلے دو الزامات سے بری کر دیا گیا ہے لیکن تیسرے الزام کے ارتکاب کا مجرم پایا گیا ہے۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے موسویان کو جاسوس اور غدار قرار دیا تھا۔ اس ماہ کے اوائل میں انہیں برطانوی سفارت خانے کو ’خفیہ‘ معلومات فراہم کرنے کا ملزم کہا گیا تھا۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ موسویان کو پروپیگنڈے کی ’جرم‘ کی کتنی سزا ملے گی۔ اس سے قبل خبر کے مطابق منگل کو ایک تفتیشی میجسٹریٹ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف جاسوسی کے دو الزامات خارج کردیۓ جائیں۔ لیکن صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وہ دستاویزات شایع کی جائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جاسوسی میں ملوث تھے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے ایران میں سخت موقف والوں اور حالات کا رخ دیکھ کرچلنے والوں میں کھینچا تانی چل رہی ہے۔ | اسی بارے میں ایران کے جوہری سفارتکار مستعفی 20 October, 2007 | آس پاس ایران پر روس اور امریکہ کا اتفاق02 July, 2007 | آس پاس سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: روس 17 July, 2007 | آس پاس امریکہ روسی تنظیموں کا حامی13 October, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس جوہری پروگرام پر ایران کا اصرار11 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||