BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 November, 2007, 05:31 GMT 10:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جاسوسی نہیں، پروپیگنڈا کیا‘
حسین مُوسویان سابق صدر اور محمود احمدی نژاد کے حریف، ہاشمی رفسنجانی کے قریبی ساتھی ہیں
ایران میں جوہری امور کے سابق مذاکرات کار حسین مُوسویان کو جن پر تین الزامات لگے تھے، جاسوسی کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔

تاہم ایک ایرانی عدالت کے مطابق ان کے خلاف پروپیگنڈے کا الزام ثابت ہوا ہے۔

حسین مُوسویان سابق صدر اور محمود احمدی نژاد کے حریف، ہاشمی رفسنجانی کے قریبی ساتھی ہیں۔

عدلیہ کے ایک ترجمان کے مطابق موساویان پر تین الزام تھے: جاسوسی، خفیہ دستاویزات اپنے پاس رکھنا اور موجودہ ایرانی نظام کے خلاف پروپیگینڈا کرنا۔

انہیں پہلے دو الزامات سے بری کر دیا گیا ہے لیکن تیسرے الزام کے ارتکاب کا مجرم پایا گیا ہے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے موسویان کو جاسوس اور غدار قرار دیا تھا۔

اس ماہ کے اوائل میں انہیں برطانوی سفارت خانے کو ’خفیہ‘ معلومات فراہم کرنے کا ملزم کہا گیا تھا۔

ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ موسویان کو پروپیگنڈے کی ’جرم‘ کی کتنی سزا ملے گی۔

اس سے قبل خبر کے مطابق منگل کو ایک تفتیشی میجسٹریٹ نے کہا تھا کہ ان کے خلاف جاسوسی کے دو الزامات خارج کردیۓ جائیں۔ لیکن صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وہ دستاویزات شایع کی جائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جاسوسی میں ملوث تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے ایران میں سخت موقف والوں اور حالات کا رخ دیکھ کرچلنے والوں میں کھینچا تانی چل رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد