’جاسوسی کی پیشکش پر مقدمہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو افسر پر ایران، روس اور فلسطینی تنظیم حماس کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کے الزام کے تحت فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ ماہرِ نفسیات ڈیوڈ شمیر پر الزام ہے کہ انہوں نے رقم کے عوض کمانڈ سنٹرز اور شہریوں کے انخلاء کے منصوبے کے بارے معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ تاہم عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق وہ متعدد کوششوں کے باوجود ناکام رہے۔ ڈیوڈ شمیر نے تاحال ان الزامات کا جواب داخل نہیں کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک اس عمل کی بنیاد لالچ ہے۔ جمعہ کو عدالت میں پیش کیے جانے والے کاغدات کے مطابق پنتالیس سالہ شمیر نے ایرانی وزارتِ خارجہ کو اپریل میں ایک ای میل کی تھی جس میں انہوں نے ایرانی حکام کو اپنی خدمات پیش کی تھیں تاہم ایرانی حکام نے یہ پیشکش ٹھکرا دی تھی۔ اس کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں شمیر نے غزہ میں حماس کا مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ایک یونیورسٹی کو ای میل کی جس میں رقم کے عوض ان کی’جدوجہد میں شمولیت‘ کی پیشکش کی گئی۔ اس کے علاوہ ڈیوڈ شمیر پر روسی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی سے بھی رابطہ کرنےکا الزام ہے جس میں انہوں نے جاسوسوں کی بھرتی کے طریقۂ کار کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ اسرائیلی اخبار ہارتز کے مطابق حکام کو شمیر کے گھر سے اہم دستاویزات اور ان تمام روابط کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیلی جیل میں ہنگامہ،30زخمی22 October, 2007 | آس پاس ایران پر امریکہ کی نئی پابندیاں25 October, 2007 | آس پاس ’ایران پر فوجی حملہ ٹھیک نہیں‘ 30 October, 2007 | آس پاس فلسطینی ریاست کے لیے مذاکرات 21 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||