BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 May, 2008, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ

اسرائیل اس ماہ اپنے قیام کی ساٹھویں سالگرہ منا رہا ہے۔ چودہ مئی 1948 کو بن غوريون نے، جو اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم بنے، اسرائیل کے معرضِ وجود میں آنے کا اعلان کیا۔

اس کے معرضِ وجود میں آنے کے اعلان کو صیغہ راز میں رکھا گیا تھا اور صرف دو سو مندوبین کو تل آویو کے میوزیم میں خفیہ دعوت نامہ دے کر بلایا گیا تھا جہاں بین گورئن نے اس کا اعلان کیا۔

ان دو سو افراد میں سے صرف ایک شخص کے متعلق پتا چلا ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔ وہ ہیں 93 سالہ ایریہ ہینڈلر۔

وہ اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’میں بین گورئن کی رہائش گاہ کے قریب ہی رہتا تھا اور مجھے ایک شخص موٹر سائیکل پر دعوت نامہ دینے آیا۔

میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو اس نے کہا کہ اسے یہ بتانے کی اجازت نہیں ہے۔

اسی دوران مجھے بن غوريون کے سٹاف سے فون آیا، جس میں مجھے کہا گیا کہ میں اس دعوت نامے کا کسی سے ذکر نہ کروں۔

ایریہ ہینڈلر
93 سالہ ایریہ ہینڈلر کو بتایا گیا تھا کہ دعوت نامے کا ذکر کسی سے نہ کریں

میرے پاس اب بھی وہ اصل دعوت نامہ ہے۔ اس میں لکھا ہے:’’تل آویو قوم کی انتظامیہ کی طرف سے 13 مئی 1948 ۔ ہم قراردادِ آزادی کے سیشن کے لیے آپ کو مدعو کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس کا انعقاد 14 مئی 1948 کو چار بجے دوپہر 16 روشچائلڈ بلیورڈ پر میوزیم ہال میں ہو گا۔

ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس دعوت نامہ کے مواد اور اور کونسل کے کنونشن کی تاریخ کو صیغہ راز میں رکھیں۔ مدعو کیے گئے مہمانوں سے درخواست ہے کہ وہ ہال میں ساڑھے تین بجے پہنچ جائیں۔ آپ کا مخلص، دی سیکریٹیریٹ۔ یہ دعوت نامہ نجی ہے۔ ڈریس کوڈ: سیاہ، سمارٹ۔‘‘

میں زائونسٹ جنرل کونسل کا رکن تھا، اور اس وقت امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین اور یہودیوں کے دوستوں کی طرف سے نیو یارک سے ٹیلیگرامز آئے، جن میں کہا گیا کہ ریاست کے قیام کا اعلان نہ کیا جائے کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ اس پر روسیوں کا تسلط ہو جائے گا۔ روسی اس کی حمایت کرتے تھے۔

اپر گلیلی
بالائی گلیلی سے گولان کی پہاڑیوں کا ایک منظر

بن غوريون بہت مشکل حالت میں تھے اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ’میں کمیونسٹ نہیں ہوں اور میں امریکیوں کی حمایت چاہتا ہوں، لیکن اگر میں نے اب ریاست کا اعلان نہ کیا تو یہ کبھی نہیں ہو گا۔‘

میں ان سے اتفاق کرتا تھا۔‘

اسی طرح ایک عورت جولیا نزان بھی ہیں جو ریاست کے قیام کے وقت گلیلی کے سمندر کے شمال میں ’انگلش کبتز‘ میں رہتی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں لگتا تھا کہ ان کے پاس ایک اہم کام ہے۔ ’ہمیں معلوم تھا کہ ہم نے کوئی چیز تعمیر کرنی ہے جس کا کوئی اہم رتبہ ہو گا۔‘

اگرچہ جو آئڈیلز یا معنویت لوگوں کو یہاں لے کر آئی تھی ابھی تک موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا دکھ بھی ہے کہ اسرائیل کیا سے کیا بن گیا ہے۔

جولیا کہتی ہیں: ’اس سے میرا دل جلتا ہے۔‘ ان کا اشارہ ملک کے سیاستدانوں کے جنسی اور اقتصادی سکینڈلوں کی طرف تھا۔

’ہم نے سوچا تھا کہ ہم ایک ماڈل ملک ہوں گے جہاں کوئی بدعنوانی نہیں ہو گی، ایک سادہ سی زندگی ہو گی جہاں بنیادی اقدار کا تحفظ ہو گا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد