BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی حملے: عام شہری کہتے ہیں
غزہ پر اسرائیل کے حملوں پر چار ایسے شہریوں کا ردِ عمل، جن میں سے دو کا تعلق غزہ سے ہے اور دو کا غزہ کے قریبی اسرائیلی شہر سدرہ سے ہے۔ طبی اہلکاروں کا کہنا ہے ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر حماس کے پولیس والے ہیں۔

مخامر ابوسدا، 44، بیت اللہم، غزہ
’جو کچھ ہوا ہے تصور سے بعید ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی کوئی چیز
نہیں دیکھی۔ بے تحاشا بمباری کی گئی جس نے عام فلسطینی شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کیا ہے۔ایک میزائل کا نشانہ میرے گھر سے دیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر واقع سنگترے کا باغ بنا۔ فائر بندی کا معاہدہ ختم ہونے سے قبل اس علاقے سے ایک قسام میزائل داغا گیا تھا۔

میں نے بمباری اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھی۔ میرے جاننے والوں میں سے کوئی نہ تو نشانہ بنا نہ زخمی ہوا۔ میرا نہیں خیال کہ اس کے بعد اسرائیل کا زمینی حملہ بھی ہو گا، اگر وہ ہوا بھی تو اسرائیل میں انتخابات کے بعد ہو گا۔

اس کے علاوہ میرا یہ بھی خیال ہے کہ اسرائیل کو غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے باہمی اختلافات سے بھی فائدہ حاصل ہو گا۔ اگر اسرائیل چاہے تو اس صورتِ حال کو ختم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے اسے ہمارے ساتھ مل بیٹھنا اور کوئی سیاسی مفاہمت کرنا ہو گی، جس کے لیے وہ تیار نہیں ہے۔

فلسطینی بٹے ہوئے ہیں۔ کچھ حماس کے حامی ہیں اور کچھ فتح کی حمایت کرتے ہیں۔ کچھ لوگ حماس سے ناراض بھی ہیں لیکن ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ وہ اس وقت حماس کے خلاف آواز اٹھا سکیں، نہ یہ اس کا وقت ہے۔ یہ وقت قومی سطح پر اتحاد قائم کرنے کا ہے‘۔

ایکی ایملر، 45، سدرہ، اسرائیل
غزہ پر ایک دہشت گرد تنظیم کی حکمرانی ہے اور مجھے نہیں پتہ کہ دنیا میں کوئی ملک ایسا بھی ہو گا جو اپنے ہمسایہ ملک پر دہشت گردوں کی حکمرانی کی اجازت دے گا۔

سدرہ اسرائیل کے غیر متنازع علاقے میں واقع ہے۔ یہ غزہ نہیں ہے، نہ ہی یہ ان علاقوں کا حصہ جنہیں فلسطینی مقبوضہ کہتے ہیں۔ یہ انیس سو اڑتالیس سے اسرائیل کا حصہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ غزہ والے ہمیں تسلیم کر لیں۔

دیڑھ سال پہلے ایک میزائل میرے گھر پر آ کرگا۔ خدا کا شکر ہے کہ میں زخمی نہیں ہوا۔ لیکن ہی بات یہاں کی حقیقت ہے کہ آپ کہیں جا رہے ہیں اور اچانک سائرن بجنے لگتے، آپ کو کوئی جگہ دکھائی نہیں دیتی جہاں آپ چھپ کر پناہ لے سکیں۔

سیاسی طور پر اسرائیل کی موجودہ قدیمہ حکومت کو اس سے فائدہ ہو گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کارروائی کا انتخابات سے کوئی تعلق ہے۔ حکومت پر کئی سال سے مسلسل دباؤ تھا کہ وہ غزہ کے دہشت گردوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرے۔

مجھے اسرائیل میں بائیں بازو کا سمجھا جاتا ہے، میرا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی سنکی قوم پرست سے بات نہیں کر رہے۔ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ ان لوگوں کی حکمرانی ہو اور میں اب بھی دو ریاستی قوم پر یقین رکھتا ہوں۔

میں دعا کرتا ہوں کہ تشدد ختم ہو اور ہمیں اس مسئلے کا کوئی پرامن حل مل جائے۔

امجد شاوا، 39، غزہ شہر
غزہ کی تاریخ کا یہ تاریک ترین دن ہے۔ اتنے شدید حملے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ 1967 کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لوگ نشانہ بنے ہیں۔

جب حملے شروع ہوئے تو میں این جی او ورکرز کی ایک ورکشاپ کرا رہا تھا، جس کو موضوع تھا ’تنازع کی کایا کلپ اور عدم تشدد‘۔ ہم نے بالکنی میں جا کر دیکھا، لوگوں میں بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ہر طرف چیخ و پکار مچی ہوئی تھی۔ لوگ انسانی اعضا اٹھائے بھاگ رہے تھے اور اس کے بعد یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔

حملے اس وقت ہوئے جب سکولوں میں ایک شفٹ ختم ہو رہی اور دوسری ہونے کو تھی۔ اس لیے اس وقت بچے یا تو سکولوں کو آ رہے تھے یا جا رہے تھے۔ میرے بچے پہلے ہی سکول سے نکل چکے تھے اس لیے وہ بچ گئے لیکن ان کا ایک ہم جماعت زخمی ہو گیا۔

میرے بچوں نے دوسرے بچوں کو نشانہ بنتے، لہو لہان ہوتے ہوئے دیکھا اور ان کی ایسی چیخ و پکار سنی جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔

ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ حماس ہو یا فتح۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا صرف ایک جواب ہے کہ ہم متحد ہو جائیں۔ آج میں سڑک پر کسی سے نہیں پوچھ سکتا کہ وہ حماس کا ہے یا الفتح کا، ہمارا خون ایک دوسرے میں مل چکا ہے‘۔

میچی فیندل، سات بچوں کی ماں، سدرہ اسرائیل
’آخر انتخابات سے ڈیڑھ ماہ قبل اسرائیل نے کوئی کارروائی کر ہی ڈالی۔

بلا شبہ میں کارروائی اور انتخابات کو ایک دوسرے سے متعلق سمجھتی ہوں۔ لیکن کچھ نہ کرنے سے تاخیر سے کچھ کرنا بھی برا نہیں۔ غزہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ لاجواب ہے۔ میں اسرائیلی شہر نیتیوت میں ہلاک ہونے والے آدمی کے بارے میں اب تک شدید دکھ محسوس کرتی ہوں۔

ہم لوگ عام طور پر دائیں بازو کی ہی کسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں، کسی ایسی جماعت کو جس سے ہمیں کچھ کرنے کی توقع ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب قدیمہ یا لبرل نہیں۔ اس کے بعد لیکود ہی بچ جاتی ہے یہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ ہمیں کسی پارٹی کو چننے کے لیے اخری بچی ہویی پارٹی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ابھی کچھ ہی دن کی بات ہے کہ میری بیٹی سکول سے آئی تو رو رہی تھی۔ ہمارا گھر سکول سے صرف چھ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اس روز موسم خوشگوار تھا لیکن اسے سکول سے گھر تک پہنچنے میں چھ بار راکٹ حملے کے خطرے کا وارننگ کا سامنا کرنا پڑا۔

عرب ہمیں ایک بار پھر یہ احساس دلا رہے ہیں کہ ہمارا سدرہ پر کوئی حق نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم یہاں سے نکل جائیں‘۔

میچی کے شوہر: ڈیوڈ

’جب بھی کسی انسان کی جان لی جائے گی تو اسے ایک سانحہ ہی کہا جائے گا۔ لیکن ہم قاتلوں کی بات کر رہے ہیں جو ہمیں ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ کارروائی سکون بخش ہے۔

دوسری طرف ہم یہ بات بھی مانتے ہیں کہ اس کارروائی کے دوران معصوم شہریوں کا مارا جانا غلط ہے لیکن اس کی ذمہ داری بھی حماس پر عائد ہوتی ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے لیے آڑ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ انسانی زندگی محترم ہے اور اسی لیے سمجھتے ہیں حماس کی حکومت غلط ہے‘۔

حملوں کا مقصد
غزہ پر کیے گئے حملے اور اسرائیل کے مقاصد
غزہغزہ، اسرائیلی حملے
حملے حماس کے ٹھکانوں پر کیے گئے: اسرائیل
غزہپانی، نہ بجلی، نہ روٹی
’غزہ میں بد ترین حالات میں نفرت پنپ رہی ہے‘
غزہغزہ کی ناکہ بندی
غزہ: ’بد ترین حالات‘، عرب ممالک پر تنقید
’نازیوں جیسا رویہ‘
’غزہ میں اسرائیلی کارروائی نازیوں جیسی‘
راکٹ باری، بمباری
اسرائیلی حملوں میں 52 فلسطینی ہلاک
جیریمی بوون’اگر سنجیدہ ہیں۔۔‘
غزہ پر آپ کے سوالات، جواب جیریمی بوون کا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد