BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2008, 03:06 GMT 08:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غزہ میں بد ترین انسانی حالات‘
غزہ
’ناصر نے کہا کہ امید کی کرن تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے اور حالات کو نفرت کے بیج بونے سے روکنا بھی‘
’غزہ کے لوگ ہر چیز کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں اور وہ بھی اگر ان کے لیے کوئی چیز موجود ہو‘۔ یہ تھے غزہ میں ایک انتالیس سالہ امدادی کارکن بسام ناصر کے الفاظ۔

ناصر بھی اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے دیگر کئی ارکان کی طرح یہی کہتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں حالات اتنے خراب کبھی نہ تھے جتنے اب ہیں۔ لوگ روٹی کے لیے دو یا تین گھنٹوں تک قطاروں میں گزارتے ہیں لیکن کبھی گیس ہوتی ہے نہ آٹا، نتیجتًا روٹی بھی نہیں مل سکتی۔

نفرت کے بیج
 ہم بچوں کے ذہن میں ان لوگوں کے بارے میں نفرت کے بیج بوئے بغیر موجودہ صورتحال کی وضاحت نہیں کر سکتے جو ان مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ میرا اشارہ صرف اسرائیلی حکومت کی طرف نہیں۔ غزہ میں لوگ دنیا کی خاموشی بھی محسوس کر رہے ہیں۔لوگ دیکھتے ہیں کہ حماس ناکہ بندی کو بہانہ بنا کر اپنے آپ کو مواخذے سے آزاد سمجھتے ہوئے من مانی کرتی ہے اور کام بگاڑ رہی ہے۔ لوگ الفتح کی خاموشی دیکھتے ہیں اور انہیں بھی قصوروار مانتے ہیں۔
امدادی کارکن بسام ناصر
لوگ کئی بار اقوام متحدہ کی طرف سے تقسیم ہونے والی کھانے پینے کی اشیا کے لیے قطار بناتے ہیں لیکن کئی بار وہاں بھی کچھ نہیں ہوتا۔ تکلیف زندگی کے ہر شعبے کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔‘

ناصر نے کہا کہ کئی بار ان کے لیے اپنے تین بچوں کو سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے کہ بجلی نہ ہونے میں ان کا قصور نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بس میں ہے۔

جون دو ہزار سات کے بعد سے اسرائیل نے محض بنیادی امدادی اشیا غزہ میں لے جانے کی اجازت دی ہے۔ لوگوں کو پانچ ماہ قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے سے امید ہوئی ہوئی تھی کہ اسرائیل کی پالیسی بدل جائے گی۔

اسرائیل نے امداد کی مقدار میں تو اضافہ کیا لیکن لوگوں اور اشیا کی نقل و حمل پر عائد سخت پابندیاں اپنی جگہ پر قائم رہیں۔

دو ہفتے قبل انسانی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔ اسرائیل فوجی کی غزہ میں کارروائی اور جوابی راکٹ حملوں سے لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسرائیل نے پھر سے غزہ کی تقریباً مکمل ناکہ بندی کر دی۔

سرنگوں کے ذریعے مصر سے کچھ اشیا غزہ میں سمگل تو ہو رہی ہیں لیکن اس کے علاوہ کچھ وبھی وہاں نہیں پہنچ پا رہا۔

تیل کی کمی کی وجہ سے غزہ شہر میں بجلی کا بحران ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کے پمپ کام نہیں کر رہے اور نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔

اسرائیل بہت سے امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو بھی غزہ میں نہیں داخل ہونے دے رہا اس لیے اس مضمون کے لیے انٹرویو بھی ٹیلی فون پر کیے گئے۔

غزہ میں پانی کے محکمے کے سربراہ نے بتایا کہ گزشتہ چار روز میں شہر میں چالیس فیصد لوگوں کے گھروں میں پانی فراہم نہیں ہوا۔ انہو ں نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں پانی کب ملے گا اور ’میں انہیں کوئی جواب نہیں دے سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ نکاسی آب کے نظام کو چلانے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس کے بند ہو نے سے صحت کے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔

ناکہ بندی راکٹ حملے روکنے میں ناکام
اسرائیل کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ غزہ کی ناکہ بندی بھی اس کے شہروں پر راکٹ حملے روکنے کے لیے ضروری ہے۔ اسرائیل حماس کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔ لیکن راکٹ رک رہے ہیں اور نہ ہی حماس کی اقتدار پر گرفت کمزور ہوئی ہے۔

فلسطینیوں میں کافی بحث ہوتی ہے کہ اسرائیل آخر اس وقت ہی کیوں اتنے سخت اقدامات کر رہا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اسرائیل بڑی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور کچھ اس کی وجہ فروری میں ہونے والے انتخابات کو قرار دیتے ہیں۔

بہت کم لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنے شہریوں کو راکٹ حملوں سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ناصر نے کہا کہ کیا اتنا کافی نہیں کہ راکٹ فائر کرنے والوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ ’ہم سب اس کے ذمہ دار نہیں تو سزا سب کو کیوں مل رہی ہے۔‘

ناصر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے بچوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ’ہم ان کے ذہن میں ان لوگوں کے بارے میں نفرت کے بیج بوئے بغیر موجودہ صورتحال کی وضاحت نہیں کر سکتے جو ان مسائل کے ذمہ دار ہیں‘۔ ناصر کا اشارہ صرف اسرائیلی حکومت کی طرف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں لوگ دنیا کی خاموشی بھی محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ دیکھتے ہیں کہ حماس ناکہ بندی کو بہانہ بنا کر، اپنے آپ کو مواخذے سے آزاد سمجھتے ہوئے، من مانی کرتی ہے اور کام بگاڑ رہی ہے۔ لوگ الفتح کی خاموشی دیکھتے ہیں اور انہیں بھی قصوروار مانتے ہیں۔

ناصر نے کہا کہ امید کی کرن تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے اور حالات کو نفرت کے بیج بونے سے روکنا بھی۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد