’غزہ میں بد ترین انسانی حالات‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’غزہ کے لوگ ہر چیز کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں اور وہ بھی اگر ان کے لیے کوئی چیز موجود ہو‘۔ یہ تھے غزہ میں ایک انتالیس سالہ امدادی کارکن بسام ناصر کے الفاظ۔ ناصر بھی اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے دیگر کئی ارکان کی طرح یہی کہتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں حالات اتنے خراب کبھی نہ تھے جتنے اب ہیں۔ لوگ روٹی کے لیے دو یا تین گھنٹوں تک قطاروں میں گزارتے ہیں لیکن کبھی گیس ہوتی ہے نہ آٹا، نتیجتًا روٹی بھی نہیں مل سکتی۔
ناصر نے کہا کہ کئی بار ان کے لیے اپنے تین بچوں کو سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے کہ بجلی نہ ہونے میں ان کا قصور نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بس میں ہے۔ جون دو ہزار سات کے بعد سے اسرائیل نے محض بنیادی امدادی اشیا غزہ میں لے جانے کی اجازت دی ہے۔ لوگوں کو پانچ ماہ قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے سے امید ہوئی ہوئی تھی کہ اسرائیل کی پالیسی بدل جائے گی۔ اسرائیل نے امداد کی مقدار میں تو اضافہ کیا لیکن لوگوں اور اشیا کی نقل و حمل پر عائد سخت پابندیاں اپنی جگہ پر قائم رہیں۔ دو ہفتے قبل انسانی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔ اسرائیل فوجی کی غزہ میں کارروائی اور جوابی راکٹ حملوں سے لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسرائیل نے پھر سے غزہ کی تقریباً مکمل ناکہ بندی کر دی۔
تیل کی کمی کی وجہ سے غزہ شہر میں بجلی کا بحران ہے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کے پمپ کام نہیں کر رہے اور نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ اسرائیل بہت سے امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو بھی غزہ میں نہیں داخل ہونے دے رہا اس لیے اس مضمون کے لیے انٹرویو بھی ٹیلی فون پر کیے گئے۔ غزہ میں پانی کے محکمے کے سربراہ نے بتایا کہ گزشتہ چار روز میں شہر میں چالیس فیصد لوگوں کے گھروں میں پانی فراہم نہیں ہوا۔ انہو ں نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں پانی کب ملے گا اور ’میں انہیں کوئی جواب نہیں دے سکتا‘۔ انہوں نے کہا کہ نکاسی آب کے نظام کو چلانے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس کے بند ہو نے سے صحت کے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
فلسطینیوں میں کافی بحث ہوتی ہے کہ اسرائیل آخر اس وقت ہی کیوں اتنے سخت اقدامات کر رہا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اسرائیل بڑی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور کچھ اس کی وجہ فروری میں ہونے والے انتخابات کو قرار دیتے ہیں۔ بہت کم لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنے شہریوں کو راکٹ حملوں سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ناصر نے کہا کہ کیا اتنا کافی نہیں کہ راکٹ فائر کرنے والوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ ’ہم سب اس کے ذمہ دار نہیں تو سزا سب کو کیوں مل رہی ہے۔‘ ناصر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے بچوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ ’ہم ان کے ذہن میں ان لوگوں کے بارے میں نفرت کے بیج بوئے بغیر موجودہ صورتحال کی وضاحت نہیں کر سکتے جو ان مسائل کے ذمہ دار ہیں‘۔ ناصر کا اشارہ صرف اسرائیلی حکومت کی طرف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں لوگ دنیا کی خاموشی بھی محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ دیکھتے ہیں کہ حماس ناکہ بندی کو بہانہ بنا کر، اپنے آپ کو مواخذے سے آزاد سمجھتے ہوئے، من مانی کرتی ہے اور کام بگاڑ رہی ہے۔ لوگ الفتح کی خاموشی دیکھتے ہیں اور انہیں بھی قصوروار مانتے ہیں۔ ناصر نے کہا کہ امید کی کرن تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے اور حالات کو نفرت کے بیج بونے سے روکنا بھی۔ | اسی بارے میں غزہ، ایندھن کی جزوی فراہمی11 November, 2008 | آس پاس غزہ سیز فائر کا خاتمہ تباہ کن ہو گا15 November, 2008 | آس پاس ’غزہ میں خوراک کے بحران کا خدشہ‘12 November, 2008 | آس پاس غزہ دھماکہ، بچی سمیت پانچ ہلاک25 July, 2008 | آس پاس غزہ کا راستہ کھولنے کا فیصلہ29 June, 2008 | آس پاس غزہ: بچوں سمیت پانچ ہلاک28 April, 2008 | آس پاس غزہ پر پابندیوں سے بحران سنگین24 April, 2008 | آس پاس بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||