BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 November, 2008, 02:26 GMT 07:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غزہ میں خوراک کے بحران کا خدشہ‘
غزہ
غزہ میں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے
اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی کو’شرمناک اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے علاقے میں خوراک لے جانے کی اجازت نہ دی تو اقوام متحدہ کے خوراک کے تقسیم کے مراکز میں دو روز کے اندر کھانے پینے کی تمام اشیاء ختم ہو جائیں گی۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ چھ دن سے جاری اس ناکہ بندی کے نتیجے میں تیل کی قلت بھی پیدا ہو رہی جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوگئی ہے۔

غزہ میں کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم کے ترجمان کرسٹوفن گنز کے مطابق’ یہ بچوں کو خوراک مہیا کرنے کی کوشش کرنے والے والدین اور دیگر آبادی کے لیے جسمانی اور ذہنی سزا ہے۔ یہ لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور یہ اس غیر انسانی ناکہ بندی کی بربریت کا واضح ثبوت ہے‘۔

اسرائیل نے غزہ میں رسد کی فراہمی پر تقریباً ایک ہفتے سے پابندی لگا رکھی ہے اور مشرقِ وسطٰی کے لیے عالمی ایلچی ٹونی بلیئر کی اپیل پر اس نے منگل کو تیل کی محدود سپلائی کی اجازت دی ہے لیکن کھانے پینے کی اشیا کی سپلائی اب تک بند ہے۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ اس نے یہ پابندی فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹ حملوں کے جواب میں لگائی ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ کی صورتحال کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ جون میں مصر کی ثالثی میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے پر عمل کریں۔

غزہ میں بجلی کا بحران پہلے سے ہی جاری ہے

بان کی مون نے کہا کہ’ہمیں پورا احساس ہے کہ غزہ میں حالات کتنے تکلیف دہ اور مشکل ہیں۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ حماس اور تمام فلسطینی، مصر کی امن کے لیے کوششوں کا مثبت جواب دیں، اور میں اسرائیل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کرے اور علاقے میں رسد جانے کے اجازت دے، امدادی کارکنوں کو وہاں جانے دے تاکہ اقوام متحدہ کے رکے ہوئےمنصوبوں پر دوبارہ کام شروع ہو سکے‘۔

ادھر غزہ میں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت تو پہلے ہی ہے لیکن تیل اور ڈیزل کی کمی سے لوگوں کو مزید پریشان کیا ہے۔ غزہ میں ایک بیکری کے مالک مازن الغولی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس ڈیزل کا ذخیرہ نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ ہمیں کام روکنا پڑے گا۔ جب تک ڈیزل ہے، کام چلے گا اور پھر ہم دکان بند کر دیں گے‘۔

اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کا واحد بجلی گھر پیر کو بند ہوگیا تھا۔تاہم اب علاقے میں تیل کی محدود سبلائی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ لیکن امدادی کارکنوں کا اندازہ ہے کہ یہ بھی ڈیڑھ روز کے اندر ختم ہو جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد