مشرق وسطٰی: مذاکرات ماسکومیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقِ وسطی مذاکرات میں شریک کوارٹریٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اگلے سال ماسکو میں کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ بیان مشرقِ وسطی کوارٹریٹ کے ایلچیوں کے درمیان مصر میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری کیا گیا جن میں امریکہ ، اقوامِ متحدہ ، روس اور یورپی یونین شامل ہیں۔ فلسطینی اوراسرائیلی رہنماؤں نے انہیں اپنے باہمی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ کواٹریٹ کے ایلچی ٹونی بلئیر نے نومنتخب امریکی صدر بارک اوبامہ سے اپیل کی کہ وہ مشرقِ وسطی کو اپنی اوّلین ترجیحات میں شامل کریں۔ روسی وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ اگلے سال موسمِ بہار میں ہونے والی کانفرنس امن معاہدے کی سمت اگلا قدم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک مسٹر اوبامہ بھی اپنے عہدے کا حلف لیں گے اور فروری میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے بعد نئی حکومت بھی تشکیل ہو جائےگی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فلسطین اور اسرائیلی باہمی مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ اُس وقت تک کوئی امن معاہدہ نہیں ہوگا جب تک دونوں کے درمیان موجود تمام مسائل طے نہیں پا جاتے۔ دونوں فریق نےدو ریاستوں کے حل کے جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کو جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا ہے جیسا کہ ایک سال قبل میری لینڈ میں ہونے والی کانفرنس میں زور دیا گیا تھا۔ اُُس وقت اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں نے عہد کیا تھا کہ جنوری 2009 میں امریکی صدر جارج بش کے عہدہ چھوڑنے تک امن معاہدہ کر لیا جائے گا۔ لیکن باہمی مذاکرات میں زیادہ اہم پیش رفت نہ ہونے کے سبب اِس ہدف کو حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔جن اہم مسائل پر دونوں فریق میں اختلافات پائے جاتے ہیں ان میں یروشلم کا مستقبل، فلسطینی ریاست کی سرحدیں اور فلسطینی پناہ گزینوں کا مستقبل شامل ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلئیر کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ اوبامہ انتظامیہ پہلے دن سے ہی اس مسئلے پرگرفت حاصل کر لے۔ انہوں نے کہا ’اب بنیاد ڈال دی گئی ہے‘ صرف عمارت کی تعمیر کا کام باقی ہے۔ امن مذاکرات میں آنے والی روکاوٹوں میں سے ایک حماس اور فتح گروپ کے درمیان اختلافات ہیں حماس نے صدر عباس کے فتح گروپ کو گزشتہ برس غزہ سے نکال باہر کیا اور اب مصر کی حمایت سے ہونے والےعلیحدہ مصالحتی مذاکرات کا بائیکاٹ کر دیا۔یہ مذاکرات پیر سے قاہرہ میں ہونے والے تھے۔ حماس کے افسران کا الزام ہے کہ مسٹر عباس نے غربِ اردن میں فتح گروپ کے کنٹرول والےعلاقے میں اس کے سینکڑوں کارکنوں کوگرفتار کر رکھا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین کے خیال میں حماس ایک دہشت گرد گروپ ہے اور اس سے مذاکرات نہیں کئے جا سکتے۔ | اسی بارے میں مشرقِ وسطیٰ: آج سہ فریقی مذاکرات19 February, 2007 | آس پاس جنگ بندی کامیاب حکمتِ عملی:ایہود11 August, 2008 | آس پاس ’اسرائیلی فوجی کا دوسال بعد خط‘10 June, 2008 | آس پاس سینیگال: حماس اور فتح میں مذاکرات09 June, 2008 | آس پاس لبنان: میشال سلیمان صدر منتخب26 May, 2008 | آس پاس مصالحتی مذاکرات، حماس کا بائیکاٹ08 November, 2008 | آس پاس ’اسرائیل انسانیت سوز ظلم ڈھا رہا ہے‘30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||