’اسرائیلی فوجی کا دوسال بعد خط‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں اطلاعات کے مطابق دو سال قبل فلسطینی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں پکڑے جانے والے ایک فوجی کے گھر والوں کو ان کا خط ملا ہے۔ اغواء ہونے والے فوجی کے والد نوام شلت نے بتایا کہ بتایا کہ خط ان کے بیٹے گِیلاد شلت کی تحریر میں تھا اور بظاہر حال ہی میں لکھا گیا تھا۔ اسرائئل ذرائع ابلءاغ کے مطابق نوام شلت نے یہ نہیں بتایا کہ خط میں کیا لکھا تھا۔ تاہم انہوں نے اتنا کہا کہ خط میں اسرائیلی قیادت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حماس کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ کر کے گیلادف کی زندگی بچا لیں۔ گیلاد شلت کو جون دو ہزار چھ میں ایک چوکی پر ڈیوٹی کے دوران غزہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے قیدی بنا لیا تھا۔ اس سال اپریل میں دمشق میں حماس کے عسکری شعبے کے رہنما خالد مشعل نے سابق امریکی صدر جِمی کارٹر سے ملاقات میں کہا تھا کہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت اسرائیلی فوجی کو خط لکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ حماس نے شلت کی رہائی کے بدلے اسرائیل سے چار سو پچاس فلسطینی قیدی رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں مصر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’ہر قیمت پر فوجی آزاد کرائیں گے‘26 June, 2006 | آس پاس مغوی اسرائیلی فوجی کا ’آڈیو ٹیپ‘25 June, 2007 | آس پاس مشرق وسطی تنازعے کے قیدیوں کا احوال26 July, 2006 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی کامعاہدہ08 July, 2007 | آس پاس اسرائیل سے فلسطینی قیدی رہا20 July, 2007 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||