فلسطینی قیدیوں کی رہائی کامعاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے تیئں حمایت ظاہر کرتے ہوئے ڈھائی سو فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ معاہدہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت اور مسٹر عباس کے درمیان حالیہ ملاقات میں طے پایا ہے۔ اب رہا ہونے والے قیدیوں کی رسمی فہرست تیا ر کی جانی ہے اور توقع ہے کہ یہ تمام قیدی محمود عباس کے فتح گروپ سے ہوں گے۔ غزہ پر حماس کا قبضہ ہونے کے بعد محمود عباس نے ہنگامی حکومت قائم کی ہے جس کے بعد اسرائیل اور مغربی حکومتوں نے فلسطین کے ساتھ تعلقات بحال کیے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں ایہود اولمرت نے کہا کہ ’ہم فلسطینی اتھارٹی میں معتدل عناصر کو مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی’ با معنی مذاکرات‘ شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں تقریباً دس ہزار فلسطینی قیدی ہیں جن میں کچھ بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔اس سے قبل 2005 میں اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت چار سو فلسطینیوں کو رہا کیا تھا۔ | اسی بارے میں چار سو قیدیوں کی رہائی کی منظوری 29 May, 2005 | آس پاس پانچ سو فلسطینی قیدیوں کی رہائی21 February, 2005 | آس پاس شالیت کے بدلے فلسطینیوں کی رہائی05 September, 2006 | آس پاس مشرق وسطی تنازعے کے قیدیوں کا احوال26 July, 2006 | آس پاس قومی اتحاد کی حکومت پر غور18 June, 2006 | آس پاس عورتوں، بچوں کی رہائی کا مطالبہ27 June, 2006 | آس پاس فوجی کا بدل، بچوں عورتوں کی رہائی26 June, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوجی کی ’صحت ٹھیک ہے‘09 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||