BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 June, 2006, 21:40 GMT 02:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اتحاد کی حکومت پر غور
قیدیوں کی تیارہ کردہ دستاویز پر تمام فلسطینی دھڑے غور کر رہے ہیں
غزہ شہر میں فلسطینیوں کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں معاہدے کی اس دستاویز پر غور کیا جائے گا جسے فلسطینی قیدیوں نے تیار کیا ہے اور جس میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کیا گیا ہے۔

فلسطینیوں کی حکمراں جماعت حماس یہ بین الاقوامی مطالبہ ماننے سے احتراز کر رہی ہے کہ وہ اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کرے۔

عالمی سطح پر حماس سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ تشدد ترک کرے اور ماضی کے معاہدوں کو تسلیم کرے۔

تاہم قیدیوں کی طرف سے موصولہ دستاویز پر حماس کے اراکین اور فلسطینیوں کے تمام دھڑے جن میں متحارب گروپ بھی شامل ہیں، مل کرغور کر رہے ہیں۔

فلسطینی وزیرِ اعظم اور حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ اگر تمام دھڑے قیدیوں کی تیار کردہ دستاویز پر اتفاق کر لیتے ہیں تو قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

معاہدے کا امکان موجود ہے
 فلسطینی وزیرِ اعظم اور حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ اگر تمام دھڑے قیدیوں کی تیار کردہ دستاویز پر اتفاق کر لیتے ہیں تو قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی
اسماعیل ہانیہ

اسماعیل ہانیہ کا کہنا تھا: ’قومی جماعتوں اور اسلامی پارٹیوں میں موجود ہمارے بھائیوں کے لیئے اس حکومت میں آنے کے دروازے کھلے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک قومی معاہدہ اس امکان کو مستحکم کرے گا اور قومی اتحاد کی حکومت میں شرکت کا باب کھول دے گا۔‘

فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک معتمد رواہ فتوح جو فتح تنظیم کے ایک سینئر رکن بھی ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں اعتماد ہے کہ معاہدہ ہوجائے گا۔

فتوح نے کہا: ’ہم نے معاہدے کی تقریبا پندرہ شقوں پر نظرِ ثانی کی ہے اور تین شقوں پر غور ہونا باقی ہے۔ ان تین شقوں پر بھی معاہدے کے لیئے فضا سازگار لگتی ہے ۔تاہم اس معاملے پر مزید غور کیا جائے گا اور اس وقت تک مکالمہ بھی ہوگا جبتک کہ ہم قومی معاہدے پر اتفاق نہ کرلیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اگر خدا نے چاہا تو ہم جلد ہی اس معاہدے کا اعلان بھی کر دیں گے۔ ممکن ہے یہ اعلان اگلے ہفتے ہی ہو جائے۔ ہم اس معاہدے کا اعلان دنیا کے لیئے اور فلسطینی عوام کے لیئے کریں گے اور اس معاہدے پر تمام دھڑوں کے دستخط ہوں گے۔ صدر کے، وزیرِ اعظم کے اور فلسطینیوں کی قانون ساز کونسل کے چیئرمین کے بھی۔ اس کے علاوہ اس معاہدے پر دیگر تمام سیاسی دھڑوں کے دستخط بھی ہوں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد