BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 July, 2007, 06:48 GMT 11:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل سے فلسطینی قیدی رہا
فلسطینی قیدیوں کے رشتہ دار
ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں
اسرائیلی نے چھ خواتین اور گیارہ بچوں سمیت دو سو پچاس فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل نے ان قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے لیے اپنی حمایت کے اظہار کے طور پر کیا تھا۔

ان قیدیوں میں حماس کے کسی رکن کو رہائی نہیں ملے گی جس کے محمود عباس کی تنظیم الفتح سے شدید اختلافات ہیں۔

غرب اردن میں بی بی سی کے نامہ مگار کے مطابق بہت سے فلسطینیوں کے نزدیک دس ہزار قیدیوں میں سے دو سو چھپن افراد کو رہا کر دینا کافی نہیں ہے۔

رہا ہونے والے قیدیوں کو جنوبی اسرائیل میں قائم جیل سے بسوں کے ذریعے غرب اردن کے شہر رام اللہ لے جایا جا رہا ہے جہاں وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جائیں گے۔

اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت کی کابینہ نے دو ہفتے پہلے ان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی تھی۔ اولمرت نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی انتظامیہ میں اعتدال پسند عناصر کو ہر حال میں مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ الفتح سے وابستہ قیدیوں کی رہائی سے محمود عباس کی اس پالیسی کو تقویت ملتی ہے جس کے تحت وہ اپنی تنظیم اور حماس کے درمیان فاصلے بڑھانا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی جیلوں میں دس ہزار فلسطینیوں کو بغیر الزامات کے رکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سن دو ہزار پانچ میں سیز فائر کے ایک معاہدے کے تحت چار سو افراد کو رہا کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد