اسرائیل سے فلسطینی قیدی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی نے چھ خواتین اور گیارہ بچوں سمیت دو سو پچاس فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل نے ان قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کے لیے اپنی حمایت کے اظہار کے طور پر کیا تھا۔ ان قیدیوں میں حماس کے کسی رکن کو رہائی نہیں ملے گی جس کے محمود عباس کی تنظیم الفتح سے شدید اختلافات ہیں۔ غرب اردن میں بی بی سی کے نامہ مگار کے مطابق بہت سے فلسطینیوں کے نزدیک دس ہزار قیدیوں میں سے دو سو چھپن افراد کو رہا کر دینا کافی نہیں ہے۔ رہا ہونے والے قیدیوں کو جنوبی اسرائیل میں قائم جیل سے بسوں کے ذریعے غرب اردن کے شہر رام اللہ لے جایا جا رہا ہے جہاں وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جائیں گے۔ اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت کی کابینہ نے دو ہفتے پہلے ان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی تھی۔ اولمرت نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی انتظامیہ میں اعتدال پسند عناصر کو ہر حال میں مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ الفتح سے وابستہ قیدیوں کی رہائی سے محمود عباس کی اس پالیسی کو تقویت ملتی ہے جس کے تحت وہ اپنی تنظیم اور حماس کے درمیان فاصلے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں دس ہزار فلسطینیوں کو بغیر الزامات کے رکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سن دو ہزار پانچ میں سیز فائر کے ایک معاہدے کے تحت چار سو افراد کو رہا کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کامعاہدہ08 July, 2007 | آس پاس یروشلم: فلسطین اسرائیل بات چیت09 July, 2007 | آس پاس بلیئر کے مشرقِ وسطیٰ مذاکرات19 July, 2007 | آس پاس حماس سے مذاکرات کی اپیل05 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||