BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 June, 2008, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیگال: حماس اور فتح میں مذاکرات
پوسٹر
غزہ میں ایک دکان پر قومی اتحاد کے فروغ کے لیے پوسٹرآویزاں کیےگئے ہیں
فلسطین کے دو حریف دھڑوں حماس اور فتح کے درمیان سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں دو روزہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

بات چیت کے اختتام پرایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات سے اعتماد اور باہمی ہم آہنگی کی فضا بحال ہوئی ہے۔

فلسطین کے ان دو دھڑوں میں جون 2006 میں حماس کے غزہ کا زبردستی کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ پر حماس کے قبضے کو بغاوت قرار دیتے ہوئے حماس کے اتحادیوں کی کا بینہ کو معطل کردیا تھا اور اسرائیل سے مذاکرات دوبارہ شروع کر دیے تھے۔

سینیگال ان مذاکرات کی میزبانی اس وجہ سے کر رہا ہے کیونکہ اس کے صدر عبدالئی وید اس وقت اسلامی سربراہی کانفرنس کے سربراہ ہیں۔ سینیگال کے حکام کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد ’فلسطینی خاندان کے درمیان اختلافات کا خاتمہ اور مفاہمت پیدا کرنا ہے‘۔

ڈاکار میں منعقد ہونے والے ان مذاکرات کے سلسلے کی پہلی ملاقات کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ بیان پر حماس کے نمائندہ عماد خالد علامی اور فتح کی جانب سے سینیگال میں فلسطینی سفارت کار حکمت زید کے دستخط موجود تھے۔

 فلسطین کے ان دو دھڑوں میں جون 2006 میں حماس کے غزہ کا زبردستی کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شدید مخالفت پائی جاتی ہے اور اس قبضے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ پر حماس کے قبضے کو بغاوت قرار دیتے ہوئے حماس کے اتحادیوں کی کا بینہ کو معطل کردیا تھا

غزہ میں حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے فلسطینی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غرب اردن میں حماس کے ارکان کی گرفتاریاں بند کر دیں۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حماس نے مذاکرات کی طرف قدم بڑھائے ہیں اور اب فلسطینی صدر اور غرب اردن میں فتح تنظیم سے مطالبہ ہے کہ وہ بھی ایسے ہی اقدامات کرے جس سے ان کی سنجیدگی اور اچھی نیت ثابت ہو‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فتح اور حماس کے مابین ان مذاکرات سے محمود عباس کے ساتھ اسرائیل اپنی بات چیت معطل کر سکتا ہے۔ ان مذاکرات سے قبل کئی ممالک جن میں مصر اور یمن بھی شامل ہیں نے حماس اور فتح کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوششیں کی تھیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے پچھلے سال حماس سے اس وقت تک بات چیت کرنے سے انکار کردیا تھا جب تک حماس غزہ کا قبضہ نہیں چھوڑتی۔

اسی بارے میں
حماس کا وفد قاہرہ میں
24 April, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد