حماس اور فتح بات چیت پر راضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین کے دونوں مخالف دھڑے حماس اور فتح مفاہمت کے لیے بات چیت کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں اور اس فیصلے کے ساتھ ہی انہوں نے اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کئے ہیں۔ گزشتہ جون سےحماس اور فتح کے درمیان سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ حماس کو جب محسوس ہوا کہ انتخابات میں واضع اکثریت کے باوجود اس کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ فتح کے ساتھ مل کر حکومت بنائے تو اس نے زبردستی غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران ہونے والی لڑائی میں درجنوں فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ یمنی حکومت کی ثالثی کے بدولت دونوں دھڑے مذاکرات کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ ان مذاکرات میں سب سے اہم نقطہ یہ ہوگا کہ حماس غزہ کا کنٹروں صدر محمود عباس کے حوالے کرتا ہے یا نہیں۔ فلسطین کی زیادہ تر عوام دونوں دھڑوں کے درمیان مفاہمت دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں آپس کی لڑائی فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے ـ ادھر امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی جو آجکل مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے دونوں فریقوں کو تکلیف دہ رعایتیں دینی پڑی گی۔ ڈک چینی نے رملہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات چیت کے بعد کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام انتہائی ضروری ہے لیکن اسرائیل پر راکٹ حملے امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ـ محمود عباس نے کہا کہ یہودی بستیاں آباد کرنے سے، فصیلیں کھڑی کرنے سے، دہہاتوں اور شہروں میں چیک پوائنٹ قائم کرنے سے اور غزہ پر فوج کشی کرنے سے اور متواتر لوگوں کو حراست میں لینے سے امن و استحکام نہیں پیدا کیا جا سکتا۔محمود عباس نے کہا کہ غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں ـ اس سے پہلے امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اسرائیل کی پالیسیوں کی بھر پورحمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایہود اولمرٹ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ اسرائیل کی سکیورٹی کے حوالے سےامریکی عہد ’غیر متزلزل‘ ہے۔ ڈک چینی کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل پر ایسے معاملات کے حوالے سے کبھی دباؤ نہیں ڈالےگا جو کہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکیں۔ امریکی نائب صدر کا مشرق وسطیٰ کا یہ دورہ دونوں فریقوں کےدرمیان رکے ہوئے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کی ایک کڑی تھا لیکن اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی کی عوام ان امن مذاکرات کی کامیابی کی توقع کم ہی رکھتے ہیں ـ | اسی بارے میں قیامِ امن کے لیے دباؤ بھی ڈالوں گا:بش09 January, 2008 | آس پاس اسرائیل،فلسطین مذاکرات آج شروع14 January, 2008 | آس پاس غزہ فضائی حملہ، نو فلسطینی ہلاک06 February, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، 54 فلسطینی ہلاک02 March, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملے: درجنوں فلسطینی ہلاک01 March, 2008 | آس پاس ’غزہ میں بدترین انسانی بحران‘06 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||