غزہ فضائی حملہ، نو فلسطینی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک حملے میں حماس کے نو ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس سے قبل اسلامی گروپ کے مسلح بازو نے کہا تھا کہ پیر کو اسرائیل میں ہونے والے خود کش بم حملے کا وہ ذمہ دار ہے۔ حماس کے سات ارکان جنوبی غزہ میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے جبکہ دو افراد غزہ اور مصر کی سرحد پر گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ حماس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس کے سات افراد اس وقت میزائل سے ہلاک ہوئے جب وہ ایک سکیورٹی احاطے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ پیر کو ڈیمونا میں خود کش حملہ ہوا تھا جس میں ایک خاتون اور دو بمبار مارے گئے تھے۔ حماس کی طرف سے دو ہزار چار کے بعد یہ اس طرح کا پہلا حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم بمباروں کی شناخت کافی الجھاؤ کا باعث ہے کیونکہ مخالف گروپوں نے اس حملے کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ حملہ آور غربِ اردن کے شہر ہیبرون سے داخل ہوئے تھے۔ تاہم العقصیٰ مارٹر برگیڈ کا کہنا ہے کہ حملہ آور غزہ سے آئے تھے جہاں تئیس جنوری کو غزہ کا بارڈر رفاہ کے قریب سے پار کیا گیا تھا اور اسرائیلیوں کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ فلسطینی شدت پسند مصر کے راستے دراندازی کریں گے۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق منگل کا فضائی حملہ جو رفاہ کے قریب عمل میں آیا ان راکٹ حملوں کا جواب تھا جو اسرائیلی شہر سدیروٹ پر داغے گئے تھے۔ اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی علاقوں میں مزید راکٹ گرے اور حماس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مزید کارروائی کرے گی۔ حماس جس کی غزہ پر حکومت ہے، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے اسرائیل سے مذاکرات کے مخالف ہے۔ | اسی بارے میں غزہ کو تیل کی فراہمی پر آمادگی27 January, 2008 | آس پاس مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی25 January, 2008 | آس پاس غزہ پراسرائیلی پابندیوں میں نرمی 22 January, 2008 | آس پاس غزہ کی ناکہ بندی پر تکرار23 January, 2008 | آس پاس ہزاروں فلسطینی مصر میں داخل23 January, 2008 | آس پاس ’مزاحمت جاری رہے گی‘26 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||