غزہ کی ناکہ بندی پر تکرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی پر ہونے والے ایک مباحثے کے دوران فلسطینی اور اسرائیلی سفارتکاروں کے درمیان تکرار ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی آبزرور نے اسرائیل پر تشدد بھڑکانے اور ایک انسانی المیہ پیدا کرنے کا الزام لگایا جبکہ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک راکٹ حملوں سے اپنے شہریوں کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ منگل کے دن بھر جاری رہنے والی یہ بحث عرب اور اسلامی ملکوں کی درخواست پر منعقد کی گئی ہے۔ فلسطینی آبزرور ریاض منصور نے کہا کہ سکیورٹی کونسل اسرائیل سے مطالبہ کرے کہ ’قابض طاقت فوری طور پر فلسطینی عوام کی اجتماعی سزا ختم کرے۔‘ لیکن اسرائیلی مندوب گیلاد کوہن نے اس بات سے انکار کیا کہ اسرائیل عالمی قوانین کی مخالفت کا مرتکب ہے۔ اسرائیلی مندوب نے کہا: ’تمام ریاستوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کے لیے تحفظ اور جینے کا حق یقینی بنائیں، بالخصوص دہشتگردی اور گھناؤنے تشدد کی کارروائیوں سے۔‘
لیبیا اس ماہ سکیورٹی کونسل کا سربراہ ہے جس نے اس معاملے پر ایک قرارداد تیار کیا ہے جس کے تحت اسرائیل سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غزہ کی پابندی ختم کرے اور ’فلسطینی لوگوں تک انسانی امداد کی فراہمی کو بغیر روکے‘ یقینی بنائے۔ لیکن اقوام متحدہ میں امریکی اور فرانسیسی مندوبین نے کہا ہے کہ قرارداد کا مسودہ ناقابل قبول ہے کیونکہ اس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملوں کا ذکر نہیں ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل میں اس معاملے پر بحث یکطرفہ ہے۔ منگل کو اسرائیل نے بین الاقوامی تنقید کے بعد غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کرتے ہوئے علاقے میں تیل کی کھیپ پہنچانے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد ٹرک کھانے کا تیل اور بجلی گھر کے لیے ایندھن لے کر مشرقی غزہ میں داخل ہوگئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اندازاً بائیس لاکھ لیٹر صنعتی تیل، جنریٹرز کے لیے پانچ لاکھ لیٹر ڈیزل اور کھانا پکانے والی گیس غزہ کو سپلائی کرے گا۔ یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ بعد ازاں ادویات کی ایک کھیپ بھی سرحد پار بھیجی جائے گی۔ تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ پابندی میں ایک دن کی نرمی سے بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ امدادی تنظیم’سیو دی چلڈرن‘ کی امدادی کارکن رعنا الہندی کا کہنا ہے کہ ’آج جو ہمیں ایندھن ملے گا وہ صرف تین دن کے لیے کافی ہوگا۔ اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ اگر ایسے ہی حالات رہے تو ہمیں غزہ میں تباہی کا سامنا ہوگا۔‘ | اسی بارے میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے:مصر21 January, 2008 | آس پاس غزہ تاریکی میں ڈوب گیا20 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، 18 فلسطینی ہلاک16 January, 2008 | آس پاس غزہ آپریشن، ہلاکتوں میں اضافہ04 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی آپریشن میں سات ہلاک03 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||