اسرائیلی حملہ، 18 فلسطینی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ایک فضائی حملے میں کم از کم اٹھارہ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں اُن فلسطینی شدت پسندوں پر حملہ کرنے گئے تھے جنہوں نے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ داغے تھے اِسی دوران مسلح فلسطینی وہاں آگئے اور جھڑپ شروع ہوگئی۔ ہلاک ہونے والے میں حماس کے ایک رہنما محمود ظہر کا بیٹا بھی شامل ہے ۔اِس موقع پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے فلسطینی انتظامیہ کے رہنماؤں پر سخت نکتہ چینی کی جو اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو اِس سب کے باوجود اسرائیل کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں ۔ امریکہ صدر بش کے دورہ اسرائیل کے بعد اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان بات چیت کا پہلا دور پیر کے روز ہوا تھا۔ مذاکرات کے اگلے روز ہی اسرائیلی فوج کی کارروائی میں اٹھارہ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادھر لبنان کے دارلحکومت بیروت میں ہونے والے بم دھماکے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اِس بم دھماکے میں امریکی سفارت خانے کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا لیکن ہلاک ہونے والوں میں کوئی بھی امریکی نہیں تھا۔ اِس دھماکے میں سترہ افراد زخمی بھی ہوئے۔لبنان کے وزیر مواصلات مروان حمادے نے اِس واقعے پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئےشام کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ یہ اُن ہی لوگوں کی طرف سے پیغام ہے جو پہلے ہی ملک کو کئی بحرانوں سے دوچار کر چکے ہیں وہی لوگ اب سفارت کاروں کو نشانہ بنا کر ملک کو سفارتی نمائندگی سے بھی محروم کرنا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیل، فلسطین کے’مثبت‘مذاکرات15 January, 2008 | آس پاس ’اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرے‘10 January, 2008 | آس پاس ’بُش کی آمد، اسرائیلی حملے تیز‘ 07 January, 2008 | آس پاس 2008: فلسطین کا سال؟01 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||