’اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ عرب علاقے خالی کرے تاکہ ایک مستحکم فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکے۔ انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ حل کرنے پر بھی زور دیاجس کے تحت انہیں معاوضہ ادا کیے جانے کی تجویز ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل سے وہ علاقے خالی کرانے کے لیے جن پر اس نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں قبضہ کیا تھا، یہ صدر بش کا اب تک کا سخت ترین پبلک بیان ہے۔ وہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے دو دن کی علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد یروشلم میں صحافیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیل کی سرحدوں کا تعین ہو، جو قابل دفاع ہوں اور جنہیں تسلیم کیا جائے، اور فلسطینی ریاست کا وجود عمل میں آئے جو خود مختار، آزاد اور مستحکم ہو۔ انہوں نے کسی واضح پلان کا اعلان تو نہیں کیا لیکن مبصرین کے مطابق ان کے بیان سے یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ بات چیت کا دائرہ کار کیا ہوگا۔
اس سے قبل غرب اردن کے شہر رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد صدر بش نے اس امید کا اظہار کیا ہےکہ اس سال ان کے سبکدوش ہونے سے پہلے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ ہو جائے گا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے فریقین پر دباؤ ڈالنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر تک اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے گا۔ فلسطینیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے لیے مستقبل میں ایک جدید جمہوری ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ جمعرات کی صبح علاقے میں شدید دھند کے باعث جارج بش نے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) سے رملہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے سڑک کے راستے رملہ پہنچے۔ صدر بش اور صدر محمود عباس کے درمیان ملاقات کے دوران ہزاروں کی تعداد میں محافظ فلسطینی صدر کے دفتر کے احاطے کے اردگرد عمارتوں کی چھتوں اور بالکونیوں میں موجود تھے۔ صدر بش ایک دن قبل اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت سے ملے تھے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو شروع کرنا چاہتے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق صدر بش کی ان کوشش کے فلسطینی گروپوں میں اختلافات کی بنا بارآور ثابت ہونے کی زیادہ امید نہیں ہے۔ سنہ دو ہزار ایک میں منتخب ہونے کے بعد صدر بش اپنے مشرق وسطی کے دورے کے آغاز میں پہلی مرتبہ اسرائیل پہنچے ہیں ۔ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے صدر بش نے صحافیوں کو بتایا کہ علاقے میں امن کے لیے وہ دو قومی حل کی حمایت کرتے ہیں۔ گزشتہ سال امریکہ میں ہونے والی سربراہ ملاقات میں فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سن دو ہزار آٹھ کے اختتام تک دو ریاستی حل کو حاصل کر لیا جائے گا۔ لیکن اسرائیلی بستیوں پر اختلاف اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے امن منصوبے پر پیش رفت کو نقصان پہنچایا جبکہ فلسطینی مہاجرین اور یروشلم کا معاملہ بھی وجۂ تنازعہ رہا ہے۔ یروشلم میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ بات چیت پر اتفاق کے باوجود مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام اور شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں جیسے معاملات ابھی جوں کے توں ہیں۔ | اسی بارے میں بش کے دورہِ مشرق وسطیٰ کی تیاریاں08 January, 2008 | آس پاس ’بُش کی آمد، اسرائیلی حملے تیز‘ 07 January, 2008 | آس پاس اسرائیل نئے مکانوں کی تعمیر پر مصر23 December, 2007 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ: نئے ایلچی کا تقرر29 November, 2007 | آس پاس غزہ میں ایندھن کی سپلائی کی اجازت19 August, 2007 | آس پاس مشرق وسطی امن کانفرنس 26 November, 2007 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||