اسرائیل، فلسطین کے’مثبت‘مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اور فلسطین کےحکام نے کہا ہے کہ یروشلم میں ہونےوالے مذاکرات کا پہلا دور انتہائی مثبت رہا ہے۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں اسرائیل کی نمائندگی اسرائیلی وزیر خارجہ ٹزیپی لوینی اور فلسطین کی نمائندگی احمد قریع نے کی۔ مذاکرات میں یروشلم، فلسطینی سرحدوں غرب اردن میں یہودی بستیوں کے موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ فلسطینی مذاکرات کار احمد قریع نے مذاکرات کے بعد کہا کہ بینادی مسائل کے بارے ’عام‘ گفتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ راستے میں مشکلات کافی ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اچھے ماحول میں بامقصد مذاکرات ہوئے لیکن انہوں نے مذاکرات کی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں بند کمرے میں ہونے والے مذاکرات کے بارے میں وہ اس وقت تک کچھ افشا نہیں کریں گی جب تک کوئی نتیجہ نہ نکل آئے۔ یہ مذاکرات امریکی صدر جارج بش کے اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں کے دورے کے فوراً بعد ہو رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران صدر بش نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ اس سال کے آخر تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے گا جس کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ | اسی بارے میں ’فلسطین۔اسرائیل معاہدہ ہو جائے گا‘10 January, 2008 | آس پاس قبضوں کا سلسلہ بند ہو: بش 11 January, 2008 | آس پاس ’اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرے‘10 January, 2008 | آس پاس قیامِ امن کے لیے دباؤ بھی ڈالوں گا:بش09 January, 2008 | آس پاس ’بُش کی آمد، اسرائیلی حملے تیز‘ 07 January, 2008 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||