قیامِ امن کے لیے دباؤ بھی ڈالوں گا:بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے حوالے سے بات چیت کی کامیابی کے لیے دباؤ ڈالنے کو بھی تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بات مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل پہنچنے اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے ملاقات کے بعد کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اگر تھوڑے بہت دباؤ کی ضرورت پڑتی ہے تو میں وہ دباؤ ڈالوں گا‘۔ اس سے قبل اسرائیل پہنچنے پر صدر بش نے کہا تھا کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ’اس مقدس زمین پر امن کے لیے ایک نیا موقع‘ ہے۔ صدر بش نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطٰی میں قیام ِ امن کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار نہیں اور جانتے ہیں کہ اس حوالے سے’مشکلات‘ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ میں پوری طرح سمجھتا ہوں کہ کچھ تکلیف دہ سیاسی سمجھوتے کرنے پڑیں گے۔ اس کے علاوہ مذاکرات بھی آسان نہیں ہوں گے اور امریکہ کا کام ان مذاکرات میں مدد فراہم کرنا ہے‘۔ تاہم صدر بش کی جانب سے قیامِ امن کی کوششوں کے اعلانات کے باوجود جہاں غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیوں میں چار فلسطینی مارے گئے وہیں فلسطینی علاقے سے اسرائیلی علاقے میں ایک راکٹ بھی پھینکا گیا۔ اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ’جب تک اس قسم کی دہشتگردی نہیں رک جاتی امن نہیں ہو سکتا‘۔ تاہم انہوں نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ فریقین دو قومی حل کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر کی آمد سے قبل اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں نے دونوں جانب اختلاف کی بنیادی وجوہات پر بات چیت کے لیے اپنے مذاکرات کاروں کو اجازت دے دی تھی اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی رہنما محمود عباس نے اسرائیلی بستیوں اور فلسطینی ریاست کی حدود کے تعین جیسے معاملات پر بات چیت کے حوالے سے آمادگی ظاہر کی ہے۔ گزشتہ سال امریکہ میں ہونے والی سربراہ ملاقات میں فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سن دو ہزار آٹھ کے اختتام تک دو ریاستی حل کو حاصل کر لیا جائے گا۔لیکن اسرائیلی بستیوں پر اختلاف اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے امن منصوبے پر پیش رفت کو نقصان پہنچایا جبکہ فلسطینی مہاجرین اور یروشلم کا معاملہ بھی وجۂ تنازعہ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں صدر بش اسرائیل کے دورے پر09 January, 2008 | آس پاس اسرائیل، فلسطین بات چیت پر تیار09 January, 2008 | آس پاس بش کے دورہِ مشرق وسطیٰ کی تیاریاں08 January, 2008 | آس پاس ’بُش کی آمد، اسرائیلی حملے تیز‘ 07 January, 2008 | آس پاس اسرائیل نئے مکانوں کی تعمیر پر مصر23 December, 2007 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ: نئے ایلچی کا تقرر29 November, 2007 | آس پاس غزہ میں ایندھن کی سپلائی کی اجازت19 August, 2007 | آس پاس مشرق وسطی امن کانفرنس 26 November, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||