BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 20:51 GMT 01:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیامِ امن کے لیے دباؤ بھی ڈالوں گا:بش
اسرائیلی وزیراعظم اور بش
امریکہ کا کام ان مذاکرات میں مدد فراہم کرنا ہے:صدر بش
امریکی صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ وہ مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے حوالے سے بات چیت کی کامیابی کے لیے دباؤ ڈالنے کو بھی تیار ہیں۔

انہوں نے یہ بات مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل پہنچنے اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے ملاقات کے بعد کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ’ اگر تھوڑے بہت دباؤ کی ضرورت پڑتی ہے تو میں وہ دباؤ ڈالوں گا‘۔ اس سے قبل اسرائیل پہنچنے پر صدر بش نے کہا تھا کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ’اس مقدس زمین پر امن کے لیے ایک نیا موقع‘ ہے۔

صدر بش نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطٰی میں قیام ِ امن کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار نہیں اور جانتے ہیں کہ اس حوالے سے’مشکلات‘ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ میں پوری طرح سمجھتا ہوں کہ کچھ تکلیف دہ سیاسی سمجھوتے کرنے پڑیں گے۔ اس کے علاوہ مذاکرات بھی آسان نہیں ہوں گے اور امریکہ کا کام ان مذاکرات میں مدد فراہم کرنا ہے‘۔

تاہم صدر بش کی جانب سے قیامِ امن کی کوششوں کے اعلانات کے باوجود جہاں غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیوں میں چار فلسطینی مارے گئے وہیں فلسطینی علاقے سے اسرائیلی علاقے میں ایک راکٹ بھی پھینکا گیا۔

اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ’جب تک اس قسم کی دہشتگردی نہیں رک جاتی امن نہیں ہو سکتا‘۔ تاہم انہوں نے اس عزم کو بھی دہرایا کہ فریقین دو قومی حل کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر کی آمد سے قبل اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں نے دونوں جانب اختلاف کی بنیادی وجوہات پر بات چیت کے لیے اپنے مذاکرات کاروں کو اجازت دے دی تھی اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی رہنما محمود عباس نے اسرائیلی بستیوں اور فلسطینی ریاست کی حدود کے تعین جیسے معاملات پر بات چیت کے حوالے سے آمادگی ظاہر کی ہے۔

گزشتہ سال امریکہ میں ہونے والی سربراہ ملاقات میں فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سن دو ہزار آٹھ کے اختتام تک دو ریاستی حل کو حاصل کر لیا جائے گا۔لیکن اسرائیلی بستیوں پر اختلاف اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے امن منصوبے پر پیش رفت کو نقصان پہنچایا جبکہ فلسطینی مہاجرین اور یروشلم کا معاملہ بھی وجۂ تنازعہ رہا ہے۔

’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
الاقصیٰ’یہ بربریت ہے‘
مسجد الاقصیٰ: کھدائی پر اسرائیلی ناراضگی
فائلامیدیں اور اندیشے
کمیپ ڈیوڈ مشرق وسطی امن کانفرنس
نو آبادیاں جاری
مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رہے گی
امریکہ اسرائیل ڈیل
تیس ارب ڈالر کی دفاعی امداد اور خطے میں امن
اسی بارے میں
صدر بش اسرائیل کے دورے پر
09 January, 2008 | آس پاس
مشرق وسطی امن کانفرنس
26 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد