الاقصیٰ: کھدائی پر اسرائیلی ناراضگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے ماہرین آثارِ قدیمہ کے ایک گروپ نے یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے قریب تازہ کھدائی پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مقدس مقام کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ مسجد الاقصیٰ کی مسلمان انتظامیہ واٹر سپلائی کے پائپ اور بجلی کے تاروں کو زمین میں دبانے کے لیے ڈیڑھ سو میٹر لمبی کھائی کھود رہی ہے۔ یہودی مسجد اقصیٰ کا دیوار گریہ کے طور پر احترام کرتے ہیں۔ اسرائیلی ناقدین کا کہنا ہے کہ تازہ کھدائی کہ وجہ سے جا بجا مٹی کے ڈھیروں کے علاوہ عمارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ مسجد کی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ہنگامی نوعیت کے اس کام کی وجہ سے عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔ مسجد اقصیٰ دیوار گریہ مشرقِ وسطی کا سب سے حساس مذہبی مقام ہے۔ اس نوعیت کے متضاد بیانات نے ماضی قریب میں علاقے میں تشدد کے واقعات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے ذریعے میں اسرائیل فلسطین تنازعے کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہودی روایت کے مطابق یہاں حضرت سلیمان کے عبادت گاہ کے باقیات ہیں جبکہ مسلمان اس جگہ کو پیغمبر اسلام کے معراج کی رات آسمانوں کی طرف پرواز کی جگہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل نےانیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں یروشلم کےعلاقوں کے ساتھ مسجد اقصی پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ اس کا انتظام اب ایک مسلم وقف انتظامیہ کے پاس ہے جو اسرائیلی کنٹرول کے تحت کام کرتی ہے۔ وقف انتظامیہ نے تعمیر و مرمت کا کام اسی ہفتے شروع کیا تھا اور اس سلسلے میں ایک میٹر گہری کھائی کھودی تھی۔ اس کی وجہ سے علاقے میں جا بجا مٹی کے ڈھیر اکٹھے ہو گئے تھے۔ اسرائیلی ماہرینِ آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس میٹریل کی احتیاط سے چھان بین کی جائے اور اس کا حساب کتاب رکھا جائے جیسے دیگر مقدس مقامات پر کام کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ کمیٹی اگینسٹ دی دسٹریکشن آف اینٹیکویٹیز آن ٹیمپل ماؤنٹ کے گیبریئل بارکئی نے اسے بربریت قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں مسجد الاقصی: تعمیر پھر شروع11 February, 2007 | آس پاس یروشلم: تعمیراتی کام معطل12 February, 2007 | آس پاس ’یہودیوں کے داخلے پر پابندی‘03 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||