BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 February, 2007, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسجد الاقصی: تعمیر پھر شروع
کئی دنوں سے مسجد القصیٰ کے قریب کے علاقوں میں شدید کشیدگی ہے
اسرائیل نے یروشلم میں عالمِ اسلام کی نظر میں انتہائی مقدس الاقصیٰ مسجد کے قریب متنازع تعمیراتی کام پھر سے شروع کر دیا ہے۔

تعمیری کام اس مقام کے قریب شروع ہوا ہے جسے یہودی اور مسلمانوں دونوں ہی نگاہِ احترام سے دیکھتے ہیں۔ اس مقام پر گزشتہ ہفتے تعمیر کا کام شروع ہونے پر اسرائیلی حکام اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

تعمیر کے دوران حفاظتی اقدامات کے طور پر پولیس کی نفری علاقے میں بھیج دی گئی ہے تاکہ نئے احتجاج سے نمٹا جا سکے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت کا کہنا ہے کہ عمارت خطرناک حد تک خستہ ہوگئی ہے جسے تعمیر کرنا از حد ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تعمیر سے مسجد کا احاطہ متاثر نہیں ہوگا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ ایہود اولمرت اور امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزر رائس کے ساتھ انیس فروری کو ہونے والی ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔

یروشلم میں اسرائیلی پولیس اور مسلمان مظاہرین کے درمیان جمعہ کو تصادم کے بعد سے ہی شہر میں انتہائی کشیدہ فضا پائی جاتی ہے۔

مسجد الاقصی میں موجود درجنوں مسلمان جمعہ کو اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب پولیس والوں نے مسجد کے قریب کئے جانے والے تعمیراتی کام کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور اس دوران وہ مسجد کے احاطے میں بھی داخل ہو گئے۔

مسجد الاقصی کے باہر تعینات کئے جانے والے ہزاروں پولیس والوں نےاحتجاج کرتے ہوئے مسلمانوں پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے تھے۔

عینی شاہدوں کے مطابق الاقصی مسجد کے باہر مسلمان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی پولیس نے ’سٹن گرنیڈ‘ بھی استعال کیے۔ اس موقع پر کچھ نمازیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے احاطے میں محصور کر لیا۔

اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق ان جھڑپوں میں پندرہ پولیس اہلکار اور بیس مظاہرین زخمی ہو ئے۔

عرب اور مسلمان رہنماؤں نے اسرائیلی کی طرف سے شروع کیئے جانے والے تعمیراتی کام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مقدس مقامات کی توہین قرار دیا تھا۔ اس تعمیراتی کام کے خلاف، جو مسلمانوں کے خیال میں مسجد کی بنیادیں کمزور کر دے گا، جمعہ کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ تعمیراتی کام مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کرنے آنے والوں کی سہولت کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد