BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 January, 2008, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر بش اسرائیل کے دورے پر
اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی رہنما
علاقے میں امن کے لیے دو قومی حل کی حمایت کرتے ہیں:صدر بش
امریکی صدر جارج بش مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل پہنچے گئے ہیں۔ اسرائیل پہنچنے پر صدر بش نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ’اس مقدس زمین پر امن کے لیے ایک نیا موقع‘ ہے۔

بدھ کے روز تل ابیب کے ہوائی اڈے پر انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے اسرائیلی کابینہ کے تمام اراکین موجود تھے۔ یہ صدر بش کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہے۔

امریکی صدر کی آمد سے قبل اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں نے دونوں جانب اختلاف کی بنیادی وجوہات پر بات چیت کے لیے اپنے مذاکرات کاروں کو اجازت دے دی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی رہنما محمود عباس نے اسرائیلی بستیوں اور فلسطینی ریاست کی حدود کے تعین جیسے معاملات پر بات چیت کے حوالے سے آمادگی ظاہر کی ہے۔

فلسطینی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یروشلم میں ہونے والی سربراہ ملاقات کا مقصد امریکہ میں شروع ہونے والے بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھانا تھا۔ مرکزی فلسطینی مذاکرات کار صائب اراکات کا کہنا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ زپی لیونی اور سابق فلسطینی وزیراعظم ابو اعلٰی احمد قرعی’ فوراً ملاقاتیں شروع کریں گے جن میں حتمی سمجھوتے کے حوالے سے تمام معاملات پر بات ہو گی۔‘

سنہ دو ہزار ایک میں منتخب ہونے کے بعد صدر بش اپنے مشرق وسطی کے دورے کے آغاز میں پہلی مرتبہ اسرائیل جائیں گے۔ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے صدر بش نے صحافیوں کو بتایا کہ علاقے میں امن کے لیے وہ دو قومی حل کی حمایت کرتے ہیں۔

گزشتہ سال امریکہ میں ہونے والی سربراہ ملاقات میں فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سن دو ہزار آٹھ کے اختتام تک دو ریاستی حل کو حاصل کر لیا جائے گا۔

لیکن اسرائیلی بستیوں پر اختلاف اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے امن منصوبے پر پیش رفت کو نقصان پہنچایا جبکہ فلسطینی مہاجرین اور یروشلم کا معاملہ بھی وجۂ تنازعہ رہا ہے۔

یروشلم میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ بات چیت پر اتفاق کے باوجود مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام اور شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں جیسے معاملات ابھی جوں کے توں ہیں۔

’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
الاقصیٰ’یہ بربریت ہے‘
مسجد الاقصیٰ: کھدائی پر اسرائیلی ناراضگی
فائلامیدیں اور اندیشے
کمیپ ڈیوڈ مشرق وسطی امن کانفرنس
نو آبادیاں جاری
مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رہے گی
امریکہ اسرائیل ڈیل
تیس ارب ڈالر کی دفاعی امداد اور خطے میں امن
مشرقی وسطیٰ اجلاس
بلیئر کی سربراہی میں کوارٹیٹ کی پہلی میٹنگ
اسی بارے میں
مشرق وسطی امن کانفرنس
26 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد