BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 January, 2008, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فلسطین۔اسرائیل معاہدہ ہو جائے گا‘
اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی رہنما
علاقے میں امن کے لیے دو قومی حل کی حمایت کرتے ہیں:صدر بش
امریکہ کے صدر جارج بش نے غرب اردن کے شہر رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہےکہ اس سال ان کے سبکدوش ہونے سے پہلے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ ہو جائے گا۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے فریقین پر دباؤ ڈالنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال کے آخر تک اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے گا۔ فلسطینیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے لیے مستقبل میں ایک جدید جمہوری ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔

صدر جارج بش نے اس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔

جمعرات کی صبح علاقے میں شدید دھند کے باعث جارج بش نے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) سے رملہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے سڑک کے راستے رملہ پہنچے۔

صدر بش اور صدر محمود عباس کے درمیان ملاقات کے دوران ہزاروں کی تعداد میں محافظ فلسطینی صدر کے دفتر کے احاطے کے اردگرد عمارتوں کی چھتوں اور بالکونیوں میں موجود تھے۔

صدر بش ایک دن قبل اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت سے ملے تھے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو شروع کرنا چاہتے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق صدر بش کی ان کوشش کے فلسطینی گروپوں میں اختلافات کی بنا بارآور ثابت ہونے کی زیادہ امید نہیں ہے۔

اس سے قبل فلسطینی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یروشلم میں ہونے والی سربراہ ملاقات کا مقصد امریکہ میں شروع ہونے والے بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھانا تھا۔ مرکزی فلسطینی مذاکرات کار صائب اراکات کا کہنا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ زپی لیونی اور سابق فلسطینی وزیراعظم ابو اعلٰی احمد قرعی’ فوراً ملاقاتیں شروع کریں گے جن میں حتمی سمجھوتے کے حوالے سے تمام معاملات پر بات ہو گی‘۔

سنہ دو ہزار ایک میں منتخب ہونے کے بعد صدر بش اپنے مشرق وسطی کے دورے کے آغاز میں پہلی مرتبہ اسرائیل پہنچے ہیں ۔ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے صدر بش نے صحافیوں کو بتایا کہ علاقے میں امن کے لیے وہ دو قومی حل کی حمایت کرتے ہیں۔

گزشتہ سال امریکہ میں ہونے والی سربراہ ملاقات میں فلسطینی رہنما محمود عباس اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ سن دو ہزار آٹھ کے اختتام تک دو ریاستی حل کو حاصل کر لیا جائے گا۔

لیکن اسرائیلی بستیوں پر اختلاف اور سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے امن منصوبے پر پیش رفت کو نقصان پہنچایا جبکہ فلسطینی مہاجرین اور یروشلم کا معاملہ بھی وجۂ تنازعہ رہا ہے۔

یروشلم میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ بات چیت پر اتفاق کے باوجود مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام اور شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں جیسے معاملات ابھی جوں کے توں ہیں۔

اسی بارے میں
مشرق وسطی امن کانفرنس
26 November, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد