اسرائیلی آپریشن میں سات ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طبی عملے اور عینی شاہدین کے مطابق غزہ میں تازہ اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم سات فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان واقعات میں انیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر پتھراؤ کرنے والے بچے ہیں جو ربر کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں عام شہری بھی شامل ہیں اور زیادہ تر ہلاکتیں خان یونس کے مشرق میں اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیوں میں ہوئی ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد اسرائیلی علاقے پر ہونے والے راکٹ حملے روکنا ہے۔ اسرائیلی ٹینک اور فوجی خان یونس کے علاقے میں جمعرات کی صبح داخل ہوئے تھے جس کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوجیوں میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا تھا۔ فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹینک کا گولہ ایک گھر پر گرا جس سے چار فلسطینی مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔ ہلاک شدگان میں سے ایک کا تعلق اسلامک جہاد سے بتایا جاتا ہے۔ بعدازاں ایک مقام پر پھنس جانے والے اسرائیلی فوجیوں کی مدد کے لیے آنے والے اسرائیلی طیاروں کی کارروائی میں دو مزید فلسطینی ہلاک ہوئے جبکہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے طبی عملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ گولہ باری سے تین فلسطینی بچے بھی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک چودہ سالہ بچے کی حالت نازک ہے۔ | اسی بارے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس حماس کی بیسویں سالگرہ پر ریلی15 December, 2007 | آس پاس اسرائیلی حملےمیں دس ہلاک 18 December, 2007 | آس پاس امن کانفرنس: غزہ میں مظاہرہ28 November, 2007 | آس پاس غزہ:الفتح ریلی پر فائرنگ، چھ ہلاک12 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||