غزہ تاریکی میں ڈوب گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں واحد پاور پلانٹ کو یہ کہہ کر بند کر دیا گیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے راستے بند کیے جانے کے بعد تیل کی فراہمی رک گئی ہے۔ سرحدوں کی بندش غزہ سے اسرائیلی آبادیوں پر مسلسل راکٹ فائر کیے جانے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے جس کے نتیجے میں تقریباً تمام اشیا کی فراہمی بھی رک گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل کی طرف سے ناکہ بندی کو انسانی حقوق کے بنیادی تقاضوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیل نے جو غزہ میں ساٹھ فیصد بجلی براہ راست فراہم کرتا ہے کہا ہے کہ فلسطینی مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کے پندرہ لاکھ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ غزہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لوگ موم بتیاں، بیٹریاں اور خوراک جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غزہ میں ایک سبزی فروش نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ خریداری میں تیزی دیکھنے میں آ سکتی ہے لیکن لوگوں کے پاس زیادہ کچھ لینے کے لیے پیسے نہیں۔ توانائی کی فراہمی کے ذمہ دار فلسطینی ادارے نے بتایا کہ بجلی کے پلانٹ کے دو ٹربائن اتوار کی صبح بند کر دیے گئے تھے اور پلانٹ کو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں بند کر دیا جائے گا۔ شدید سرد موسم کے دوران بجلی کی مانگ معمول سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ نکاسی آب کا نظام، ہسپتال اور خوراک جمع کرنے کی سہولیات متاثر ہوں گی۔ اسرائیلی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پاور پلانٹ کی بندش آرام دہ نہیں لیکن اسے انسانی بحران نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاور پلانٹ کو چلانے کے لیے ضروری ایندھن دستیاب ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ منگل کو کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی آبادیوں پر دو سو سے زیادہ راکٹ گر چکے ہیں۔ اس نے کہا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی کے دوران اٹھارہ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس نے لندن میں القدس پریس نامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ پابندیوں کی وجہ سے ان کے اسرائیل پر حملے بند نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں غزہ میں ایندھن کی سپلائی کی اجازت19 August, 2007 | آس پاس غزہ، ایندھن کے لیے امداد بحال22 August, 2007 | آس پاس غزہ کو تیل کی بندش پر تشویش30 October, 2007 | آس پاس غزہ میں امریکی سکول پر حملہ13 January, 2008 | پاکستان غزہ آپریشن، ہلاکتوں میں اضافہ04 January, 2008 | آس پاس ’اسرائیل حماس سے جنگ بندی کرے‘25 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||