غزہ پراسرائیلی پابندیوں میں نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے بین الاقوامی تنقید کے بعد غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کرتے ہوئے علاقے میں تیل کی کھیپ پہنچانے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد ٹرک کھانے کا تیل اور بجلی گھر کے لیے ایندھن لے کر مشرقی غزہ میں داخل ہوگئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اندازاً بائیس لاکھ لیٹر صنعتی تیل، جنریٹرز کے لیے پانچ لاکھ لیٹر ڈیزل اور کھانا پکانے والی گیس غزہ کو سپلائی کرے گا۔ یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ بعد ازاں ادویات کی ایک کھیپ بھی سرحد پار بھیجی جائے گی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ سرحد بند ہونے سے آٹھ لاکھ چھیاسی ہزار افراد کو غذا کی فراہمی میں تعطل آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پورپی یونین نے بھی اسرائیل پر حماس کے زیر کنڑول غزہ کے گھیراؤ پر سخت تنقید کی تھی۔ تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ پابندی میں ایک دن کی نرمی سے بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ امدادی تنظیم’سیو دی چلڈرن‘ کی امدادی کارکن رعنا الہندی کا کہنا ہے کہ ’ آج جو ہمیں ایندھن ملے گا وہ صرف تین دن کے لیے کافی ہوگا۔ اس لیے میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ اگر ایسے ہی حالات رہے تو ہمیں غزہ میں تباہی کا سامنا ہوگا‘۔ حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہری کا کہنا ہے سرحدی پابندیوں میں نرمی سے بحران ختم نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ’ اسرائیل کی جانب سے غزہ کو مزید ایندھن کی فراہمی کا مطلب غزہ کے بحران کا حل نہیں۔ ہمارے فلسطینی عوام کو درپیش اصل بحران غزہ کا مستقل محاصرہ ہے‘۔ اسرائیل نےگزشتہ جمعرات کو اس وقت سرحد بند کر دی تھی جب حماس کے زیرِ انتظام علاقہ سے اسرائیل پر بڑی تعداد میں راکٹ داغے گئے۔ تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود بارک پیر کو غزہ کا واحد بجلی گھر بند ہونے کے بعد ایک دن کی پابندی ہٹانے پر رضامند ہوئے تھے۔ بجلی گھر بند ہونے سے سارا غزہ شہر اندھیرے میں ڈوب گیا تھا۔ علاقے میں پڑول پمپس بند کر دیے گئے تھے جبکہ ہسپتالوں میں جنریٹروں کی مدد سے کام ہو رہا تھا اور صرف اہم طبی آلات کو ہی چلایا جا رہا تھا۔ اسرائیلی وزراتِ خارجہ کے ترجمان اروائے مکیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعہ سے لگائی جانے والی پابندیوں میں نرمی صرف ایک دن کے لیے ہے اور حکومت صورتحال کو دیکھتے ہوئے پابندیوں پر کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی گھر چلانے کے لیے کافی تیل کی ترسیل کی اجازت دی گی ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ کتنے دنوں کا تیل دیا گیا ہے۔ اسرائیلی ترجمان نے بجلی گھر کی بندش پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وہ سّتر فیصد کے قریب غزہ کو بجلی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس نے عالمی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے پلانٹ بند کیا ہے۔ | اسی بارے میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے:مصر21 January, 2008 | آس پاس غزہ تاریکی میں ڈوب گیا20 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، 18 فلسطینی ہلاک16 January, 2008 | آس پاس غزہ آپریشن، ہلاکتوں میں اضافہ04 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی آپریشن میں سات ہلاک03 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||