BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 January, 2008, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ کو تیل کی فراہمی پر آمادگی
مصر غزہ سرحد
رفاہ میں حماس کے کارکن مصر سے ملنے والی سرحد کی نگرانی کر رہے ہیں
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ کو تیل کی فراہمی بحال کر دے گا۔ دو ہفتے قبل تیل کی فراہمی غزہ سے راکٹ حملے رکوانے کے لیے بند کی گئی تھی۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ فراہمی کب سے شروع ہو گی۔

یہ اعلان اسرائیلی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی جانب سے غزہ کی فراہمی بند کرنے کے خلاف دی گئی درخواست پر دیا گیا ہے۔

اسرائیل غزہ کے واحد بجلی گھر کو دو اعشاریہ دو ملین لیٹر تیل فراہم کرے گا جو اس کی کم سے کم ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں دیگر اشیائے ضرورت کی بھی شدید قلت ہے جس کے بعد حماس کے شدت پسندوں نے مصر سے ملنے والی سرحد کو کئی مقامات سے توڑ دیا ہے تاکہ لوگ ان اشیاء کو حاصل کے لیے آزادانہ آ جا سکیں۔

مصر نے اس سلسلے میں کثیر فریقی مذاکرات کا اہتمام کیا ہے اور حماس اور فتح کو سرحد توڑنے جانے سے پیدا ہونے والے بحران پر مذاکرات میں شرکت کے لیے کہا ہے۔

ادھر اسرائیل میں فلسطینی اور اسرائیلی رہنما غزہ میں بدنظمی اور پانچ روز قبل مصر کی سرحد توڑے جانے پر بات چیت کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس بات چیت کے لیے فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت کی رہائشگاہ واقع یروشلم پہنچ چکے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس بات چیت کے دوران وہ اسرائیلی وزیراعظم سے غزہ میں سرحدی نقل و حمل اور انتظام اپنی سکیورٹی افواج کے حوالے کرنے کے لیے کہیں گے۔

فلسطینی صدر کے معاونین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غزہ میں نظم قائم کرنے میں آسانی ہو گی لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اگر یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو فلسطینی صدر اس پر حماس کی تائید کے بغیر کیسے عمل کریں گے کیونکہ غزہ پر حماس کا کنٹرول ہے۔

سرکاری طور پر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہنا ہے کہ اگر فلسطینی صدر کی جانب سے ایسی کوئی تجویز پیش کی گئی تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے لیکن بعض حکام نے نجی طور پر اس تجویز کی منظوری کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

الاقصیٰ’یہ بربریت ہے‘
مسجد الاقصیٰ: کھدائی پر اسرائیلی ناراضگی
امریکہ اسرائیل ڈیل
تیس ارب ڈالر کی دفاعی امداد اور خطے میں امن
نو آبادیاں جاری
مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رہے گی
فائلامیدیں اور اندیشے
کمیپ ڈیوڈ مشرق وسطی امن کانفرنس
اسی بارے میں
غزہ تاریکی میں ڈوب گیا
20 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد