مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کی سکیورٹی فورسز غزہ اور مصر کی سرحد کو بند کرنے میں ناکامی کے بعد وہاں سے پیچھے چلی گئی ہیں۔ غزہ سے مصر میں داخل ہونے کے خواہش مند فلسطینیوں کے ہجوم نے غزہ اور مصر کی سرحدی دیوار کو توڑ دیا تھا اور آزادنہ مصر کے اندر باہر جانے لگے۔ اس موقع پر مصری پولیس کے کارکن بے بس نظر آئے۔ جیسے ہی مصر کی پولیس نے فلسطینیوں کی طرف سے سرحدی دیوار میں بنائے ہوئے در بند کیے فلسطینیوں نے بلڈوزر کی مدد سے دوسری جگہ دیوار توڑ دی اور دریں اثناء مصر کے صدر حسنی مبارک نے قاہرہ میں فلسطینی حریف گروہوں کے درمیان مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس نے یہ پیشکش قبول کر لی ہے اور اس کے ترجمان خالد مشال ان کا گروہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کا کوشش کرے گا۔ اس قبل جمعے کی سہہ پہرمصری سکیورٹی فورسز نے فلسطنیوں کو روکنے کے لیے غزہ کے ساتھ سرحد پر واقع ان تمام مقامات کو بند کر کے پہرہ دینا شروع کر دیا تھا جہاں سے فلسطینی غیر قانونی طور پر مصر میں داخل ہو سکتے تھے۔ اس موقع پر خصوصی پولیس کے اہلکاروں نے سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے فلطینی باشندوں پر پانی کی توپوں سے پانی پھینکا۔ پولیس نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ جمعہ کو تین بجے سہہ پہر سے ان مقامات کو مکمل بند کر رہی ہے۔ پولیس اہلکار ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سرحد پر مختلف مقامات پر کھڑے رہے، لیکن اس کے باوجود ہزاروں فلسطینی مصر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو رہے تھے۔
بعد ازاں الیکٹرانک لاٹھیوں سے مسلح سینکڑوں مزید اہلکاروں اور پانی کے ٹینکوں کو بھی طلب کر لیا گیا تھا۔ دوسری طرف مصر سے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں نے بتایا ہے کہ مصری پولیس سرحد کے قریب کے دیہاتوں میں لاؤڈ سپیکروں پر بار بار اعلان کر رہی تھی کہ تمام لوگ واپس غزہ چلے جائیں کیونکہ جمعے کی شام سرحد کو مکمل بند کر دیا جائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی سرحدیں بند کیے جانے کے فیصلے کے بعدگزشتہ بدھ کو عسکریت پسندوں نے غزہ اور مصر کی درمیانی سرحد پر دھماکے کر کے راستے بنا دیے تھے۔ گزشتہ چند دنوں میں ہزاروں فلسطینی انہی راستوں سے مصر آ جا رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے سرحدی راستے مسدود کرنے کے بعد اسرائیل نے مصر سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھی فلسطینیوں کی آمد ورفت کو روکے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند ان راستوں سے ہتھیار سمگل کر کے غزہ لا رہے ہیں۔
جمعرات کو اسرائیلی فوج نے رفاع میں سرحد کے قریب دو فضائی حملے بھی کیے جس میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حماس سے تعلق رکھنے والے چار مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان حملوں میں ایک جیپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں رفاع میں حماس کے عسکری بازو کے کمانڈر محمد ابو حرب اور ایک دوسرے سینیئر عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ اس حملے سے دو گھنٹے کے قبل حماس کے دو دیگر ارکان کو اسرائیل نے ایک فضائی حملے میں اس وقت ہلاک کیا جب وہ رفاع کے شمال میں ایک ٹرک میں جا رہے تھے۔ گزشتہ دس دنوں میں غزہ کی سرحدوں پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنے کے علاوہ اسرائیل اس ساحلی علاقے پر مختلف حملوں میں چالیس سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کی سرحدیں بند کرنا ضروری ہے کیونکہ عسکریت پسند ان سرحدوں سے راکٹ اور ہتھیار غزہ میں لاتے ہیں جن کی مدد سے وہ اسرائیل کے سرحدی دیہاتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق گزشتہ بدھ سے غزہ کی پندرہ لاکھ کی آبادی میں سے نصف لوگ سرحد عبور کر چکے ہیں۔ مشکل صورتحال
کولمبیا پہنچنے پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ مصر کو ’مشکل‘ صورتحال کا سامنا ہے لیکن ’ یہ ایک بین الاقوامی سرحد ہے، اس پر اپنا کنٹرول بڑھانا ضروری ہے اور مجھے یقین ہے کہ مصر اس کی اہمیت کو جانتا ہے۔‘ کونڈولیزا رائس کے اس انتباہ کے بعد مصری وزارت خارجہ کے ترجمان حسام ذکی نے ’وعدہ کیا کہ سرحدوں کو واپس معمول پر لایا جائے گا۔ موجودہ حالات غیر معولی ہیں اور اس کی وجوہات عارضی ہیں۔‘ مصر نے جمعہ کی صبح تک بظاہر اس وعدے پر عمل درآمد شروع کر دیا اور فلسطینیوں کو مصر میں داخل ہونے سے روکنا شروع کر دیا۔ نئے آنے والوں کو روکنے کے علاوہ سکیورٹی فورسز گزشتہ دنوں میں مصر میں داخل ہونے والوں کو واپس غزہ بھی بھیج رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے:مصر21 January, 2008 | آس پاس غزہ تاریکی میں ڈوب گیا20 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، 18 فلسطینی ہلاک16 January, 2008 | آس پاس غزہ آپریشن، ہلاکتوں میں اضافہ04 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی آپریشن میں سات ہلاک03 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||