ہزاروں فلسطینی مصر میں داخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں نقاب پوش فلسطینی عسکریت پسندوں نے ایک سرحدی دیوار کو بم کے دھماکوں سے اڑا دیا ہے جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مصر میں داخل ہوگئے ہیں۔ غزہ کے باشندے کھانے پینے کا سامان، ایندھن اور دیگر ساز وسامان خریدنے کے لیے مصر کا رخ کر رہے ہیں کوینکہ اسرائیل کی ناکہ بندی کے بعد ان چیزوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اسرائیل نے غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملے روکنے کے لیے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور مقامی بجلی گھر کو ایندھن کی سپلائی بھی معطل کردی ہے جس سے بہت سے علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ عینی شاہدوں کے مطابق سرحد پر تعینات مصری سکیورٹی اہلکاروں نے فلسطینیوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔
گزشتہ ہفتے سے جاری ناکہ بندی کے نتیجے میں غزہ میں دواؤں کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے حالانکہ سامان لانے لیجانے پر عائد پابندی میں منگل کو کچھ نرمی کی گئی تھی۔ بدھ کی صبح عسکریت پسندوں نے رفاح کی کراسنگ کے قریب کئی مقامات پر دیوار کو بارود سے اڑا دیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار این پینل اس کراسنگ کے قریب مصری علاقے میں موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں غذائی اشیاء، پیٹرول اور سگریٹ خرید رہے ہیں۔ سرحد پار کرنے والوں میں شامل ایک شخص ابو طحہ نے کہا کہ ’ ہمیں کھانے پینے کا سامان چاہیے، ہم چاول، چینی، دودھ، آٹا اور پنیر خریدنا چاہتے ہیں۔‘ سن دو ہزار پانچ میں جب اسرائیل نے غزہ سے اپنی فوج واپس بلا لی تھی، اس وقت بھی حماس کے عسکریت پسندوں نے سرحدی دیوار کئی جگہ سے توڑ دی تھی۔
ادھر غزہ کی ناکہ بندی پراقوام متحدہ میں ہونے والے ایک مباحثے کے دوران فلسطینی اور اسرائیلی سفارتکاروں کے درمیان تکرار ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی آبزرور نے اسرائیل پر تشدد بھڑکانے اور ایک انسانی المیہ پیدا کرنے کا الزام لگایا جبکہ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک راکٹ حملوں سے اپنے شہریوں کا تحفظ کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ اسرائیل پر غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ منگل کے دن بھر جاری رہنے والی یہ بحث عرب اور اسلامی ملکوں کی درخواست پر ہو رہی ہے۔ فلسطینی آبزرور ریاض منصور نے کہا کہ سکیورٹی کونسل اسرائیل سے مطالبہ کرے کہ ’قابض طاقت فوری طور پر فلسطینی عوام کی اجتماعی سزا ختم کرے۔‘ لیکن اسرائیلی مندوب گیلاد کوہن نے اس بات سے انکار کیا کہ اسرائیل عالمی قوانین کی مخالفت کا مرتکب ہے۔ | اسی بارے میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے:مصر21 January, 2008 | آس پاس غزہ تاریکی میں ڈوب گیا20 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، 18 فلسطینی ہلاک16 January, 2008 | آس پاس غزہ آپریشن، ہلاکتوں میں اضافہ04 January, 2008 | آس پاس اسرائیلی آپریشن میں سات ہلاک03 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||