BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزاروں فلسطینی مصر میں داخل
دیوار
ہزاروں کی تعداد میں لوگ مصر میں داخل ہوئے ہیں
غزہ میں نقاب پوش فلسطینی عسکریت پسندوں نے ایک سرحدی دیوار کو بم کے دھماکوں سے اڑا دیا ہے جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مصر میں داخل ہوگئے ہیں۔

غزہ کے باشندے کھانے پینے کا سامان، ایندھن اور دیگر ساز وسامان خریدنے کے لیے مصر کا رخ کر رہے ہیں کوینکہ اسرائیل کی ناکہ بندی کے بعد ان چیزوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

اسرائیل نے غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملے روکنے کے لیے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور مقامی بجلی گھر کو ایندھن کی سپلائی بھی معطل کردی ہے جس سے بہت سے علاقے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

عینی شاہدوں کے مطابق سرحد پر تعینات مصری سکیورٹی اہلکاروں نے فلسطینیوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

لوگ کھانے پینے کا سامان خرید رہے ہیں

گزشتہ ہفتے سے جاری ناکہ بندی کے نتیجے میں غزہ میں دواؤں کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے حالانکہ سامان لانے لیجانے پر عائد پابندی میں منگل کو کچھ نرمی کی گئی تھی۔

بدھ کی صبح عسکریت پسندوں نے رفاح کی کراسنگ کے قریب کئی مقامات پر دیوار کو بارود سے اڑا دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار این پینل اس کراسنگ کے قریب مصری علاقے میں موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں غذائی اشیاء، پیٹرول اور سگریٹ خرید رہے ہیں۔

سرحد پار کرنے والوں میں شامل ایک شخص ابو طحہ نے کہا کہ ’ ہمیں کھانے پینے کا سامان چاہیے، ہم چاول، چینی، دودھ، آٹا اور پنیر خریدنا چاہتے ہیں۔‘

سن دو ہزار پانچ میں جب اسرائیل نے غزہ سے اپنی فوج واپس بلا لی تھی، اس وقت بھی حماس کے عسکریت پسندوں نے سرحدی دیوار کئی جگہ سے توڑ دی تھی۔

غزہ کی ناکہ بندی پر اقوام متحدہ میں بھی بحث ہو رہی ہے

ادھر غزہ کی ناکہ بندی پراقوام متحدہ میں ہونے والے ایک مباحثے کے دوران فلسطینی اور اسرائیلی سفارتکاروں کے درمیان تکرار ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی آبزرور نے اسرائیل پر تشدد بھڑکانے اور ایک انسانی المیہ پیدا کرنے کا الزام لگایا جبکہ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک راکٹ حملوں سے اپنے شہریوں کا تحفظ کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ اسرائیل پر غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ منگل کے دن بھر جاری رہنے والی یہ بحث عرب اور اسلامی ملکوں کی درخواست پر ہو رہی ہے۔

فلسطینی آبزرور ریاض منصور نے کہا کہ سکیورٹی کونسل اسرائیل سے مطالبہ کرے کہ ’قابض طاقت فوری طور پر فلسطینی عوام کی اجتماعی سزا ختم کرے۔‘ لیکن اسرائیلی مندوب گیلاد کوہن نے اس بات سے انکار کیا کہ اسرائیل عالمی قوانین کی مخالفت کا مرتکب ہے۔

اسی بارے میں
غزہ تاریکی میں ڈوب گیا
20 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد