BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی حملہ، 54 فلسطینی ہلاک
 زخمی فلسطینی بچی
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں کئی کمسن بچے شامل ہیں
غزہ پر تازہ ترین اسرائیلی حملے میں کم از کم 54 فلسطینی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ اسرائیلی فوج کے سن 2005 میں غزہ سے انخلاء کے بعد سب سے زیادہ پر تشدد دن تھا۔ اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران دو اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

دریں اثناء فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل اور غزہ کے جنگوؤں سے کہا ہے کہ وہ تشدد روک دیں جس میں چند دنوں میں اسی سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کے، بقول ان کے، طاقت کے زیادہ اور ناموزوں استعمال کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیلیوں کے خلاف راکٹ حملے ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

زخمی فلسطینی
لڑائی رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں

ادھر غزہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے اور سولہ کے قریب جنگجو شامل ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔

غزہ میں حملے کے دوران 150 سے زائد فلسطینی جبکہ سات اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل ان حملوں میں ٹینک اور طیارے استعمال کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی دیہاتوں پر راکٹ باری کے جواب میں کیے جا رہے ہیں اور وہ راکٹ حملے روکنا چاہتا ہے۔ تاہم سنیچر کے روز 50 کے قریب راکٹ اسرائیل کی طرف داغے گئے ہیں۔ یہ راکٹ اسرائیل کے جنوبی شہروں ایشکلان اور سیدارت پر گرے جن سے کچھ افراد زخمی بھی ہوئے۔

محمود عباس نے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ہولوکاسٹ سے زیادہ ہے۔‘ ان کا اشارہ اسرائیل کے نائب وزیرِ دفاع ماتان ولانی کے متنازعہ بیان کی طرف تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ راکٹ حملوں سے حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی میں ایک ’شدید ہالوکاسٹ‘ شروع ہو سکتا ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گی۔

ایشکلان
فلسطینی راکٹ سے ایشکلان کے ایک گھر کی چھ پھٹ گئی

اس سے قبل حماس کے رہنما اور سابق فلسطینی وزیرِ اعظم اسماعیل ھنيہ نے کہا تھا کہ ولانی کے بیان سے غزہ کی جانب اسرائیل کے اصل ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اُس واقعے کی مذمت کرے جسے وہ یہودیوں کے ہولوکاسٹ کا نام دیتے ہیں۔ اور اب وہی اسرائیلی ہمارے فلسطینی عوام کو ہولوکاسٹ کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس سے غزہ اور فلسطینی عوام کے خلاف ان کے شیطانی اور جارحانہ ارادوں کا ثبوت مہیا ہوتا ہے۔‘

اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود باراک نے ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم غزہ میں عام شہریوں کو تکلیف پہنچنے سے خوش نہیں ہیں۔ حماس اور وہ جو اسرائیل پر راکٹ پھینکتے ہیں وہ ذمہ دار ہیں اور انہیں اس کی قیمت چکانا ہو گی۔‘

اسرائیل نے یہ بھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ پر باقاعدہ اور بھرپور حملہ کر دے۔

دریں اثناء اسرائیلی سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ ایشکلان پر داغے گئے راکٹ تقریباً بائیس کلومیٹر رینج والے ایرانی راکٹ ہیں۔اسرائیلی حکومت پر کچھ اطراف سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے غزہ پر حملہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے تاہم حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق زیادہ تر اسرائیلی اس مسئلہ کا پرامن حل چاہتے ہیں۔

غزہاجتماع پر پابندی
غزہ میں کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد