غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی فوج نے غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے احتجاج سے قبل اس علاقے میں اپنی پوزیشن یا مورچوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس احتجاج میں دسیوں ہزار فلسطینی خواتین اور بچے اسرائیل کی طرف سے علاقے کی اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف پیر کو انسانی زنجیر بنائیں گے۔ احتجاج کرنے والوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سرحد کو عبور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک اور وزیر خارجہ تیزپی لیونی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزا کی سرحد کے اندر ہونے والے کسی احتجاج میں مداخلت نہیں کرے گا تاہم وہ اپنی سرحد کی کسی ممکنہ خلاف ورزی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ اس بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل صورت حال کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے پوری کوشش کرے گا لیکن اگر کوئی ناخوشگوار واقع پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حماس پر ہو گی۔ غزہ میں پیر کے دن ہونےوالے اس احتجاج کا اہتمام اسرائیل کی ناکہ بندی کے خلاف قائم ہونے والے ’ پاپولراینٹی سیج کمیٹی‘ نے کیا ہے جو حماس کا ایک حامی گروپ ہے۔ اس کمیٹی کے ایک رہنما جمال خودری نے کہا کہ شمال اور جنوب میں غزہ کے گرد قائم اسرائیل کی فصیل تک جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ احتجاج کے شرکاء ان ہدایت پر عمل کریں گے اور وہ خود بھی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔ حماس نے کہا کہ وہ اس احتجاج کی حامی ہے لیکن انہوں نے اس کا اہتمام نہیں کیا ہے۔ حماس نے جو اس علاقے میں سکولوں کا انتظام چلاتی ہے طلبہ کو اس احتجاج میں حصہ لینے کے لیے چھٹی دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے نے اسرائیل کی فوج کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کی فوج ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے چالیس فلسطینوں کو گرفتار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے علاقے میں پانچ سرنگوں کا پتا بھی لگایا جو اسمگلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ پھر وہی صورت حال پیدا نہ ہو جائے جو گزشتہ ماہ مصر کے ساتھ سرحدی باڑ میں فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے کئی جگہوں پر شگاف ڈالنے کے بعد پیدا ہو گئی تھی۔ حماس کے حکام نے اس واقعہ کے بعد اس طرح کے شگاف دوسری جگہوں پر ڈالے جانے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی گزشتہ سال جون سے کی ہوئی ہے جب اس علاقے میں حماس نے صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کو انتخابی شکست سے دوچار کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||