BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 February, 2008, 04:08 GMT 09:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج
اسرائیلی نے ایک سال سے اس علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے
اسرائیل کی فوج نے غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے احتجاج سے قبل اس علاقے میں اپنی پوزیشن یا مورچوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔

توقع ہے کہ اس احتجاج میں دسیوں ہزار فلسطینی خواتین اور بچے اسرائیل کی طرف سے علاقے کی اقتصادی ناکہ بندی کے خلاف پیر کو انسانی زنجیر بنائیں گے۔

احتجاج کرنے والوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سرحد کو عبور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک اور وزیر خارجہ تیزپی لیونی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزا کی سرحد کے اندر ہونے والے کسی احتجاج میں مداخلت نہیں کرے گا تاہم وہ اپنی سرحد کی کسی ممکنہ خلاف ورزی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

اس بیان میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل صورت حال کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے پوری کوشش کرے گا لیکن اگر کوئی ناخوشگوار واقع پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حماس پر ہو گی۔

غزہ میں پیر کے دن ہونےوالے اس احتجاج کا اہتمام اسرائیل کی ناکہ بندی کے خلاف قائم ہونے والے ’ پاپولراینٹی سیج کمیٹی‘ نے کیا ہے جو حماس کا ایک حامی گروپ ہے۔

اس کمیٹی کے ایک رہنما جمال خودری نے کہا کہ شمال اور جنوب میں غزہ کے گرد قائم اسرائیل کی فصیل تک جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ احتجاج کے شرکاء ان ہدایت پر عمل کریں گے اور وہ خود بھی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔

حماس نے کہا کہ وہ اس احتجاج کی حامی ہے لیکن انہوں نے اس کا اہتمام نہیں کیا ہے۔

حماس نے جو اس علاقے میں سکولوں کا انتظام چلاتی ہے طلبہ کو اس احتجاج میں حصہ لینے کے لیے چھٹی دی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے اسرائیل کی فوج کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کی فوج ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے چالیس فلسطینوں کو گرفتار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے علاقے میں پانچ سرنگوں کا پتا بھی لگایا جو اسمگلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔

اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ پھر وہی صورت حال پیدا نہ ہو جائے جو گزشتہ ماہ مصر کے ساتھ سرحدی باڑ میں فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے کئی جگہوں پر شگاف ڈالنے کے بعد پیدا ہو گئی تھی۔

حماس کے حکام نے اس واقعہ کے بعد اس طرح کے شگاف دوسری جگہوں پر ڈالے جانے کے امکانات کو تقویت دی ہے۔

اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی گزشتہ سال جون سے کی ہوئی ہے جب اس علاقے میں حماس نے صدر محمود عباس کی فتح پارٹی کو انتخابی شکست سے دوچار کیا تھا۔

امریکہ اسرائیل ڈیل
تیس ارب ڈالر کی دفاعی امداد اور خطے میں امن
نو آبادیاں جاری
مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رہے گی
’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
فائل فلسطین کا مستقبل
آیا 2008 میں خود مختار فلسطین کا قیام ممکن ہے؟
غزہغزہ میں انتقام کی آگ
حماس و الفتح مختلف سمتوں کے مسافر کیوں؟
غزہاجتماع پر پابندی
غزہ میں کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد