اسرائیلی حملہ، مزیدچار بچے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں میں چار بچوں کی ہلاکت کے بعد گزشتہ دو دنوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بائیس تک پہنچ گئی ہے۔ بدھ کو ہلاک ہونے والوں میں بھی ایک چھ ماہ کا بچہ شامل تھا۔ طبی عملے کے مطابق تازہ اسرائیلی حملہ جبیلیہ کے مہاجر کیمپ میں ہوا جہاں بارہ سال سے کم عمر کے چار بچے اسرائیلی راکٹ کا نشانہ بنے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کارروائی میں راکٹ پھینکنے والے مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ دیں اثناء جمعرات کو ہی بیت حنون کے علاقے میں ایک اسرائیلی حملے میں حماس کا ایک عسکریت پسند ہلاک ہو گیا۔ اس سے قبل بدھ کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں غزہ میں چار جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ مغربی کنارے میں قائم بالاتا مہاجر کیمپ پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ حملے حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ کی عمارت پر کیا گیا جو اس وقت خالی تھی۔ دھماکے سے دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں ایک چھ ماہ کا بچہ ہلاک اور کم از کم چھ دیگر افراد زخمی ہو گئے۔اس سے قبل غزہ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے عسکری شعبے کے پانچ ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ فضائی حملے اس وقت ہوئے جب غزہ سے چلائے گئے راکٹوں سے ایک اسرائیلی ہلاک ہوگیا۔ یہ گزشتہ نو ماہ میں فلسطینیوں کے راکٹ حملوں میں ہلاک ہونے والا پہلا اسرائیلی ہے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق راکٹ سیدروت کے ایک کالج کے کار پارک میں گرا جس سے ایک تیس سالہ طالبِ علم ہلاک ہو گیا۔
حماس کے عسکریت پسندوں کے مطابق انہوں نے بیس راکٹ فائر کیے ہیں جن میں سے آٹھ صرف اسرائیل کے شہر سیدروت پر داغے گئے ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم اولمرٹ نے کہا کہ ان ’دہشتگردوں‘ کو راکٹ داغنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اگرچہ گزشتہ نو ماہ کے دوران فلسطینی راکٹ سے ہلاک ہونے والا یہ پہلا اسرائیلی باشندہ ہے لیکن فلسطینی شدت پسندوں کے حملوں میں گزشتہ تین مہینوں میں چار اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے جواب میں اسرائیل کے حملوں میں دو سو سے زائد فلسطینی ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ ادھر امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے راکٹ داغنے بند ہونے چاہیں۔ جاپان میں اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اسرائیلی طالب علم کی ہلاکت پر افسوس ہے لیکن مجھے وہاں پر شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش بھی ہے۔‘ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ’موجودہ صورتحال پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ یہ بات چیت کے عمل میں رکاوٹ نہ بن سکے۔‘ | اسی بارے میں اسرائیلی فضائی حملہ، پانچ ہلاک27 February, 2008 | آس پاس غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج25 February, 2008 | آس پاس غزہ:سینئر کمانڈر سمیت سات ہلاک16 February, 2008 | آس پاس ’راکٹ یا بجلی، حماس فیصلہ کرے‘09 February, 2008 | آس پاس نیا اسرائیلی حملہ: سات ہلاک08 February, 2008 | آس پاس مصر کے ساتھ سرحد پر بھی باڑ07 February, 2008 | آس پاس غزہ فضائی حملہ، نو فلسطینی ہلاک06 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||