مصر کے ساتھ سرحد پر بھی باڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے صحرائے سینا سے آنے والے فلسطینیوں کو روکنے کے لیے مصر کے ساتھ متصل اپنی سرحد پر نئی باڑ لگانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ غزہ کی سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں کے مصر داخل ہونے اور سرحد کی عارضی خلاف ورزی کے بعد ماضی میں بھی اس طرح کی باڑ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن اس ختم کر دیا گیا کیونکہ اس منصوبے کی لاگت بہت زیادہ تھی۔ پیر کو اسرائیل میں کئی ماہ کے بعد ایک خود کش حملہ ہوا تھا۔ شروع میں یہ قیاس آرائی تھی کہ حملہ آور غزہ کے رہنے والے تھے جو دو سو تیس کلو میٹر لمبی مصری سرحد سے جس پر خاص حفاظتی انتظامات نہیں ہیں، اسرائیل داخل ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں حماس نے کہا کہ حملہ آور غربِ اردن سے آئے تھے۔ اسرائیلی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث مجوزہ باڑ تمام سرحد پر نہیں لگائی جائے گی البتہ جہاں جہاں باڑ نہیں لگیں گے، وہاں خاص سینسر لگائے جائیں گے۔ اس منصوبے پر کیا لاگت آئے گی اس کے بارے میں ابھی پتہ نہیں چل سکا۔ اور سرکاری اہلکاروں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اس منصوبے پر خرچ ہونے والی رقم کس مد سے آئے گی۔ بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں ان شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے مزید فضائی حملے کیے جو اس کے بقول اسرائیلی علاقوں میں راکٹ داغتے ہیں۔ ایک راکٹ غزہ کے قریب گرا جہاں دو بچے زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل حماس غزہ کے شمال میں حماس کے چار اراکین زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں غزہ کو تیل کی فراہمی پر آمادگی27 January, 2008 | آس پاس مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی25 January, 2008 | آس پاس غزہ پراسرائیلی پابندیوں میں نرمی 22 January, 2008 | آس پاس غزہ کی ناکہ بندی پر تکرار23 January, 2008 | آس پاس ہزاروں فلسطینی مصر میں داخل23 January, 2008 | آس پاس ’مزاحمت جاری رہے گی‘26 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||