’راکٹ یا بجلی، حماس فیصلہ کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے کہا ہے کہ فلسطینی شدت پسندوں نے غزہ سے اسرائیلی علاقوں میں راکٹ داغے ہیں تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی شدت پسندوں نے لگ بھگ بیس راکٹ داغے اور جن مقامات پر یہ راکٹ گرے وہاں تھوڑا بہت نقصان ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تمام راکٹ جمعہ کو داغے گئے۔ جمعرات کو اسرائیل نے اپنے علاقوں میں نصب گِرڈ سٹیشنوں سے غزہ میں بجلی کی فراہمی روکنی شروع کر دی تھی۔ اسرائیلی حکام کہتے ہیں کہ صرف ایک فیصد بجلی کی سپلائی کم کئی گئی ہے۔ جمعرات ہی کو اسرائیلی حملوں میں غزہ میں سات افراد مارے گئے تھے جن میں اس کے بقول چھ شدت پسند تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل میں داغے جانے والے راکٹوں کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں بجلی کی فراہم روکنے کا منصوبہ مرحلہ وار ہے تاکہ اس کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اسرائیل کو امید ہے کہ اس سے غزہ پر کنٹرول کرنے والی حماس تنظیم پر دباؤ بڑھے گا اور وہ راکٹ داغنا بند کر دے گی۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا: ’اب یہ خود حماس کا انتخاب ہے کہ کیا وہ راکٹوں پر توانائیاں صرف کرنا چاہتی ہے تاکہ اسرائیل پر حملے کر سکے یا بجلی چاہتی ہے۔‘ جنوری میں اسرائیل نے غزہ میں ایندھن کی رسد بند کر دی تھی جس سے وہاں کا بجلی گھر بند ہوگیا تھا اور غزہ کے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے تھے۔ حقوقِ انسانی کے گروپ، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ نے غزہ میں بجلی اور ایندھن کی فراہمی روکنے پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے غزہ میں بجلی پیدا کرنے کا صرف ایک پلانٹ ہے جس کے لیے اسرائیل سے تیل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ باقی بجلی اسرائیلی اور مصری گِرڈ فراہم کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ کو تیل کی فراہمی پر آمادگی27 January, 2008 | آس پاس مصری بارڈر پولیس پیچھے ہٹ گئی25 January, 2008 | آس پاس غزہ پراسرائیلی پابندیوں میں نرمی 22 January, 2008 | آس پاس غزہ کی ناکہ بندی پر تکرار23 January, 2008 | آس پاس ہزاروں فلسطینی مصر میں داخل23 January, 2008 | آس پاس ’مزاحمت جاری رہے گی‘26 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||