BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیا اسرائیلی حملہ: سات ہلاک
حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سکول پر میزائل داغا جس سے ایک معلم ہلاک اور چند طالب علم زخمی ہوگئے
اسرائیلی فوج نےغزہ میں کارروائی کرتے ہوئے فلسطینی تحریک حماس کے پانچ ارکان اور ایک مسلح شخص کے علاوہ ایک معلم کو ہلاک کر دیا ہے۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جسے ٹینکوں اور جنگی جہازوں کی مدد حاصل تھی، جبیلیہ کے قریب غزہ میں دراندازی کی جہاں مسلح افراد سے اس کی جھڑپ ہوئی۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک اڑتیس سالہ معلم بھی شامل ہیں جو اس وقت مارے گئے جب زمین سے زمین پر مار کرنے والا ایک میزائل ایک علیحدہ حملے میں بیت حنون میں واقع سکول پر آ کر گرا۔

اس جھڑپ میں اسرائیل کی فوج میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

سنہ دو ہزار چار کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیلی علاقے دیامونا میں گزشتہ پیر کو ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس کی ذمہ دار حماس نے قبول کی تھی۔ اس حملے کے بعد سے اسرائیل نے حماس کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج سے جنگ کرتے ہوئے اسلامی جہاد تنظیم کا ایک رکن اور اس کے پانچ ارکان مارے گئے۔

تین طالب علم جن کی عمریں سولہ برس کی بتائی جاتی ہیں اس وقت زخمی ہوگئے جب اسرائیل کی طرف سے بیت حنون میں میزئل داغا گیا۔

ایک بیان میں حماس نے کہا ہے کہ اس معلم کا کیا قصور تھا جو طالب علم کی تدریس میں مشغول تھا۔وہ ایک نیک کام کر رہا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ فوج نے فلسطینی سکول کو نشانہ نہیں بنایا تھا بلکہ فلسطینی عملے کے ان ارکان پر حملہ کیا تھا جو اسرائیل پر راکٹ داغتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ فوج اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا سکول کی عمارت کسی ’بھٹکے ہوئے‘ میزائل کی زد میں تو نہیں آئی۔

حماس کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں تیزی آنے کے بعد سے اس نے جنوبی اسرائیل پر چالیس راکٹ اور ساٹھ مارٹر گولے داغے ہیں۔ حماس کے مطابق اس کی شروعات منگل کو اسرائیل کی جانب سے انتہائی مہلک فضائی حملے کے بعد ہوئی۔ اس حملے میں حماس کی سکیورٹی فوج کے سات ارکان مارے گئے تھے۔

نامہ نگاروں کے مطابق تشدد میں اضافے سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی ان کوششوں کو دھچکا لگے گا جو وہ امن کے لیے کر رہے ہیں۔

حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی اور امن کے عمل کی مخالف ہے۔ گزشتہ جون میں حماس نے غزہ سے محمود عباس کی فوج کو باہر نکال دیا تھا۔ تاہم محمود عباس کو غربِ اردن کے مقبوضہ علاقے میں فلسطینی انتظامیہ کے تحت کنٹرول حاصل ہے جبکہ حماس غزہ پر کنٹرول رکھتی ہے۔

اسی بارے میں
غزہ کی ناکہ بندی پر تکرار
23 January, 2008 | آس پاس
’مزاحمت جاری رہے گی‘
26 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد