اسرائیل،فلسطین مذاکرات آج شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے قیام کے لیے پیر سے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے ـ اس بات کا اعلان گزشتہ روز فلسطینی صدر محمود عباس نے کیا تھا اور اس کے بعد اس کی تصدیق اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی کر دی ہے۔ یہ مذاکرات امریکی صدر جارج بش کے اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں کے دورے کے فوراً بعد ہو رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران صدر بش نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ اس سال کے آخر تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جائے گا جس کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ جب تک تمام بنیادی معاملات حل نہیں ہو جاتے کسی قسم کی ڈیل ہونا ناممکن ہے۔ ان کا اشارہ یروشلم کی طرف ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ یروشلم تقسیم ہو اور مشرقی یروشلم آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق اس وقت مشرقی یروشلم پر اسرائیل قابض ہے۔ اس کے علاوہ صدر محمود عباس سرحدوں کے تعین کے معاملے کو بھی زیر بحث لائیں گے اور یہودی بستیوں کا معاملہ اٹھے گا جو اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں قائم کر رکھی ہیں۔ | اسی بارے میں ’فلسطین۔اسرائیل معاہدہ ہو جائے گا‘10 January, 2008 | آس پاس قبضوں کا سلسلہ بند ہو: بش 11 January, 2008 | آس پاس ’اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرے‘10 January, 2008 | آس پاس قیامِ امن کے لیے دباؤ بھی ڈالوں گا:بش09 January, 2008 | آس پاس ’بُش کی آمد، اسرائیلی حملے تیز‘ 07 January, 2008 | آس پاس فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور24 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||