اسرائیلی حملے: درجنوں فلسطینی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور فلسطینی طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ تازہ ترین حملوں میں کم سے کم 41 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین ہلاکتوں کے بعد بدھ سے جاری اسرائیلی حملوں میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد ساٹھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں کئی فلسطینی شدت پسند شامل تھے لیکن حملوں میں بچوں سمیت کئی شہری بھی مارے گئے ہیں۔ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم سے کم ان کے پانچ فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل ان حملوں میں ٹینک اور طیارے استعمال کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی دیہاتوں پر راکٹ باری کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گی جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر مذمت کی ہے۔ سنیچر کو بھی اسرائیل کے جنوبی شہروں ایشکلان اور سیدارت پر فلسطینیوں نے کم و بیش تیس راکٹ پھینکے جن سے کچھ افراد زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے نائب وزیر دفاع ماتان ولانی نے کہا تھا کہ کہ راکٹ حملوں سے حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی میں ایک ’شدید ہالوکاسٹ‘ شروع ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں حماس کے رہنما اور سابق فلسطینی وزیرِ اعظم اسماعیل ھنيہ نے کہا تھا کہ ولانی کے بیان سے غزہ کی جانب اسرائیل کے اصل ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اُس واقعے کی مذمت کرے جسے وہ یہودیوں کے ہولوکاسٹ کا نام دیتے ہیں۔ اور اب وہی اسرائیلی ہمارے فلسطینی عوام کو ہولوکاسٹ کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس سے غزہ اور فلسطینی عوام کے خلاف ان کے شیطانی اور جارحانہ ارادوں کا ثبوت مہیا ہوتا ہے۔‘ اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق ایشکلان پر داغے گئے راکٹ تقریباً بائیس کلومیٹر رینج والے ایرانی راکٹ ہیں۔اسرائیلی حکومت پر کچھ اطراف سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے غزہ پر حملہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے تاہم حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق زیادہ تر اسرائیلی اس مسئلہ کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ |
اسی بارے میں غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج25 February, 2008 | آس پاس اسرائیلی فضائی حملہ، پانچ ہلاک27 February, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، مزیدچار بچے ہلاک28 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||