’غزہ میں بدترین انسانی بحران‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی سرکردہ امدادی ایجنسیوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو چار دہائیوں میں سب بدترین بحران کا سامنا ہے اور آبادی کا اسی فیصد حصہ اقوام متحدہ کی طرف سے مہیا کی جانی والی امداد پر گزارہ کر رہا ہے۔ برطانوی خیراتی ایجینسوں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بحران فلسطینوں پر ٹھونسا گیا ہے جس سے با آسانی بچا جاسکتا تھا۔ تاہم اسرائیل نے برطانوی امدادی اداروں کی اس رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان ایجینسیوں میں آکسفیم، ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور سیو دی چلڈرن فنڈ جیسے بڑے ادارے شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی حالت زار اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو دی جانے والی اجتماعی سزا کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ برس غزہ پر حماس کی عملداری کے بعد ان پر جو پابندیاں نافذ کی گئیں۔ اس کی وجہ سے علاقے کی معیشیت بلکل تباہ ہوگئی اور اس وقت غزہ کے اسی فیصد شہریوں کا انحصار اقوام متحدہ کی امدادی خوراک پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں صحت اور تعلیم کے شبعے رو بہ زوال ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ پالیسیاں محض شدت پسندی کو ہوا دے رہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے۔اس کے باوجود صورت احوال میں بہتری لائی جا سکتی ہے مگر اس کے لیے سیاسی خواہش کا ہونا لازمی شرط ہے۔ غزہ کے گیارہ لوگ لاکھ آبادی کا اسی فیصد اقوام متحدہ کی امداد پر گزارہ کر رہے ہیں۔ غزہ کے ایک لاکھ دس ہزار ورکر جو ایک سال پہلے غزہ کا محاصرہ کرنے سے پہلے ملازم پیشہ تھے ان میں سے پچہتر ہزار بیروزگار ہو چکے ہیں۔ پچھلے ہفتے اسرائیل نے غزہ کے باشندوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس میں ایک سو بیس لوگ ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ یہ سب کچھ اسرائیلی علاقے پر غزہ سے ہونےوالے میزائل حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج25 February, 2008 | آس پاس اسرائیلی فضائی حملہ، پانچ ہلاک27 February, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، مزیدچار بچے ہلاک28 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||