محمود:حماس کو مذاکرات کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک بار پھر حماس کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے واضح نہیں کیا کہ حماس کو مذاکرات سے پہلے غزہ کا قبضہ چھوڑنا ہو گا یا نہیں۔ صدر محمود عباس کےقریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ غزہ کا قبضہ چھوڑنے کی شرط برقرار ہے۔ مذاکراتی ٹیم کے سینیئر رہنما صائب ایراکت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی دعوت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے پچھلے سال حماس سے اس وقت تک بات چیت کرنے سے انکار کردیا تھا جب تک حماس غزہ کا قبصہ نہیں چھوڑتی۔ حماس نے فلسطینی صدر کی مذاکرات کی دعوت کا خیر مقدم کیا۔ محمود عباس نے بدھ کو وی پر تقریر کرتے ہوئے اسرائیل کو مغربی پٹی پر تعمیراتی کام جاری رکھنے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ مصر اور یمن کی طرف سے فتح پارٹی اور حماس کے درمیان سمجھوتے کرانے کی کئی ناکام کوششیں کی گئی ہیں۔ دوسری طرف حماس نے مغربی پٹی سے مارٹر کے گولے جنوبی اسرائیل پر داغے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ایک مارٹر مغربی پٹی کے ساتھ واقعہ نیر اُز کبُٹز کی فیکٹری پر گرا۔ | اسی بارے میں محمود عباس کا بُش پر تعصب کا الزام19 May, 2008 | آس پاس اسرائیلی کارروائی: ہر رابطہ ختم02 March, 2008 | آس پاس فلسطین اور اسرائیل کے رابطے20 June, 2007 | آس پاس فلسطینی معاشرہ انتشار کے قریب؟15 June, 2007 | آس پاس غزہ حماس کے مکمل کنٹرول میں15 June, 2007 | آس پاس حماس حکومت برطرف کر دی گئی14 June, 2007 | آس پاس الفتح علاقہ خالی کر دے: حماس12 June, 2007 | آس پاس فلسطین:جنگ بندی پراتفاقِ رائے05 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||